فرخ آباد / آگرہ۔ 30 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام)ایک مسلح شخص جس کا مجرمانہ پس منظر ہے، جمعرات کو 22 بچوں کا اغواء کرلینے پر اسے ہلاک کر کے بچوں کو رہا کرانا پڑا۔ اس شخص نے بچوں کو اپنی بیٹی کی برتھ ڈے پارٹی میں شرکت کا لالچ دے کر گھر بلایا تھا۔ بعد میں اس نے بچوں کو واپس جانے سے روکے رکھا ۔ بچوں کے متعلقین اور مقامی دیہاتی جمع ہوگئے اور پولیس کو طلب کرلیا گیا ۔ اس پر جنونی شخص نے دیسی بم پھینکا اور دیسی ساختہ پستول سے فائرنگ بھی کی ۔ چنانچہ پولیس کو زیادہ بھاری جمعیت بلانی پڑی جس نے اس شخص کو وارننگ دی لیکن وہ چلاتا رہا کہ اسے غلط طور پر قتل کیس میں ماخوذ کیا گیا ہے۔ جب اس نے بچوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا اور فائرنگ کرنے لگا تب جوابی فائرنگ میں اس کی ہلاکت ہوگئی اور تمام بچوں کو رہا کرالیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ سبھاش باتھم نے بچوں کو برتھ ڈے پارٹی کے لئے دعوت دی اور پھر انہیں زبردستی روکے رکھا ۔ جن بچوں نے اس سے تکرار کی کوشش کی ان پر سختی کی۔ چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ اس معاملہ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جو اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو سے 200 کیلو میٹر پر ہے۔