حجاج میں تشویش، استثنیٰ کیلئے مرکز سے نمائندگی، حج کمیٹی آف انڈیا نے قانونی موقف پیش کیا
حیدرآباد۔ حج 2019 کے حجاج کرام کیلئے انکم ٹیکس ریٹرن کے ادخال سے متعلق وزارت فینانس حکومت ہند کی نئی شرط نے نہ صرف حج کمیٹی آف انڈیا بلکہ حجاج کرام میں تشویش کی لہر دوڑادی ہے۔ مرکز نے فبروری 2019 میں فینانس بل میں ترمیمات کرتے ہوئے بیرون ملک سفر پر 2 لاکھ سے زائد اخراجات کی صورت میں ہر شخص کو انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کیلئے پابند کیا ہے۔ سفر کے سلسلہ میں مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے کئے جانے والے سفر کو قانون میں استثنیٰ نہیں دیا گیا جس کے نتیجہ میں 2019 میں فریضہ حج ادا کرنے والے حجاج کرام اس شرط کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن کی ادائیگی کے پابند بن چکے ہیں۔ چونکہ 2019 سے ترمیم شدہ قانون پر عمل آوری کی جارہی ہے لہذا 31 ڈسمبر تک انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنا ہے۔ بیرونی سفر میں خاص طور پر مذہبی سفر کیلئے وزارت فینانس کو انکم ٹیکس ریٹرن سے استثنیٰ کے اختیارات حاصل ہیں۔ سنٹرل بورڈ آف ڈائرکٹ ٹیکسس وزارت فینانس کو استثنیٰ سے متعلق اعلامیہ جاری کرنا ہوگا۔ گذشتہ تین ماہ سے حج کمیٹی آف انڈیا کی جانب سے اس سلسلہ میں نمائندگی جاری ہے لیکن وزارت فینانس نے کوئی احکامات جاری نہیں کئے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا ڈاکٹر مقصود احمد خاں نے ترمیم شدہ فینانس بل پر چارٹیڈ اکاؤنٹنٹس اور ماہرین قانون سے رائے حاصل کرتے ہوئے مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی کو رپورٹ روانہ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مختار عباس نقوی حج 2021 کے عازمین کو انکم ٹیکس ریٹرن سے استثنیٰ کے بارے میں تیقن دے رہے ہیں جبکہ یہ معاملہ 2019 کا ہے۔ اپریل 2019 میں نیا قانون وضع کیا گیا اور اگسٹ 2019 میں حجاج کرام سعودی عرب روانہ ہوئے تھے لہذا وہ اس قانون کی زد میں آچکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عازمین حج کی اکثریت ایسے افراد کی ہوتی ہے جو انکم ٹیکس ریٹرن کے نام سے بھی واقف نہیں۔ غریب اور متوسط خاندانوں کے افراد جن میں دیہی علاقوں کی اکثریت ہوتی ہے وہ اپنی جمع پونجی کے ذریعہ فریضہ حج کیلئے روانہ ہوتے ہیں۔ اُن پر انکم ٹیکس ادائیگی کی شرط عائد کرنا مضحکہ خیز ہے۔ 15 ستمبر کو وزارت فینانس سے نمائندگی کی گئی تھی لیکن آج تک استثنائی احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ حج کمیٹی آف انڈیا نے اس مسئلہ پر مرکز سے رابطہ برقرار رکھا ہے اور اُمید کی جارہی ہے کہ وزارت فینانس استثنیٰ کے احکامات جاری کرے گا۔ مختلف ریاستی حج کمیٹیوں نے بھی اس سلسلہ میں مرکز سے نمائندگی کی ہے۔ نئے فینانس قانون کے مطابق 31 ڈسمبر تک انکم ٹیکس ریٹرن کی عدم ادائیگی کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تاخیر سے مارچ تک ادائیگی پر ایک ہزار روپئے جرمانہ رہے گا۔ 2019 کے حجاج کرام کے استثنیٰ کے علاوہ مستقبل میں حج کیلئے سفر پر انکم ٹیکس ریٹرن سے استثنیٰ سے متعلق احکامات کی اجرائی ضروری ہے۔
