۔21 ہزار سرکاری ملازمین کی وظیفہ پر سبکدوشی کا خطرہ ٹل گیا

   

ایک ہفتہ میں 610 ملازمین سبکدوش ہونے والے تھے،35 سال بعد وظیفہ کی عمر میں اضافہ

حیدرآباد: سرکاری ملازمین کی وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ سے 21,000 سے زائد ملازمین کو راست طورپر فائدہ ہوا جو آئندہ تین برسوں میں سبکدوش ہونے والے تھے۔ چیف منسٹر کے اعلان کے ساتھ ہی 610 سرکاری ملازمین نے راحت کی سانس لی کیونکہ یہ اعلان ان کے لئے کسی خوشخبری سے کم نہیں تھا ۔ یہ وہ ملازمین ہیں جو 31 مارچ کو وظیفہ پر سبکدوش ہورہے تھے۔ سبکدوشی سے ایک ہفتہ قبل تین سال توسیع کا اعلان حکومت کی جانب سے ان کے حق میں تحفہ ثابت ہوا اور نہ صرف ملازمین بلکہ ارکان خاندان میں مسرت کی لہر دوڑ گئی ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق 2021 ء کے اختتام تک 5910 ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہونے والے تھے جبکہ 2022 ء میں 7850 اور 2023 ء میں 7331 ملازمین کی سبکدوشی طئے تھی۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے انتخابی وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے نہ صرف 30 فیصد فٹمنٹ کا اعلان کیا بلکہ سبکدوشی کی عمر میں تین سال کا اضافہ کیا ۔ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر 61 سال ہے۔ متحدہ آندھراپردیش کے اعتبار سے 35 برس اور تلنگانہ کی تشکیل کے 7 برس بعد وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر میں اضافہ کیا گیا۔ متحدہ آندھراپردیش میں 1956 ء سے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر 58 سال تھی جبکہ دیگر ریاستوں میں یہ عمر 58 یا 60 سال رہی۔ مرکزی حکومت کے ملازمین کے لئے سبکدوشی کی عمر 60 سال ہے۔ 1985 ء میں اس وقت کے چیف منسٹر این ٹی راما راؤ نے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر کو 58 سے گھٹاکر 56 کردیا تھا ، جس کے بعد ملازمین کی تنظیموں نے احتجاج منظم کیا اور ہائی کورٹ میں حکومت کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ۔ عدالت نے ملازمین کے حق میں فیصلہ سنایا جس کے بعد این ٹی راما راؤ حکومت نے سبکدوشی کی عمر کو 58 سال بحال کردیا ۔ اس کے بعد سے تلنگانہ میں 58 سال کی حد برقرار ہے۔ آندھراپردیش کی تقسیم کے بعد پڑوسی ریاست آندھراپردیش کی حکومت نے ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر کو 2 سال بڑھاکر 60 سال کردیا ہے جس کے بعد تلنگانہ میں یہ مطالبہ شدت اختیار کرگیا اور چیف منسٹر کے سی آر نے 2018 اسمبلی انتخابات کے موقع پر عمر کی حد میں اضافہ کا وعدہ کیا تھا، ملازمین کو امید تھی کہ پڑوسی ریاست کی طرح 60 سال عمر کی حد مقررکی جائے گی لیکن چیف منسٹر نے 61 سال کرتے ہوئے ملک کی تمام ریاستوں بلکہ مرکز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔