حیدرآباد: حیدرآباد کی نارتھ زون پولیس نے ٹاسک فورس پولیس کی مدد سے چیف منسٹر تلنگانہ کے رشتہ داروں کے اغواء کے معاملہ میں ملوث آندھراپردیش کے سابق وزیر اور ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 ڈسمبر کی شب 15 افراد پر مشتمل ٹولی بوئن پلی میں واقع ایک مکان میں داخل ہوئی اور خود کے محکمہ انکم ٹیکس کے عہدیدار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے وہاں پر تلاشی شروع کردی ۔ انہوں نے کہا کہ مکان میں موجود تین افراد پراوین ، نوین اور سنیل کو تحقیقات کے نام پر حراست میں لے لیا اور انہیں ایک ہال میں محروس کرتے ہوئے دیگر افراد خاندان کو ایک بیڈروم میں بند کردیا ۔ نامعلوم افراد کی جانب سے یہ کارروائی کئے جانے پر سریتا جو سنیل کی بیوی ہے، پڑوس میں گئی ہوئی تھی اور مکان کو باہر سے مقفل دیکھ کر دروازہ کھولا اور مکان کے تین اہم افراد وہاں موجود نہ ہونے پر سی سی ٹی وی کیمروں کا تجزیہ کیا جس میں معلوم ہوا کہ انووا، سوئفٹ ڈیزائر اور دیگر کاروں میں مذکورہ افراد کو جبراً لیجایا گیا ۔ درخواست گزار کے منیش نے ای وی سبا ریڈی ، شریمتی اکھیلا پریہ ، سابق وزیر آندھراپردیش ان کے شوہر بھارگو رام اور دیگر افراد کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس سے شکایت کی ۔ انجنی کمار نے کہا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھی اور سابق وزیر اکھیلا پریہ اور ان کے شوہر بھارگو رام اور دیور کو گرفتار کرتے ہوئے مغویہ افراد کو اغواء کنندوں کے چنگل سے چھڑالیا۔ انجنی کمار نے کہا کہ پراوین اور دیگر کا سبا ریڈی ، بوماناگ ریڈی اور دیگر سے حفیظ پیٹ میں واقع قیمتی 25 ایکر اراضی کا معاملہ چل رہا ہے اور اس سلسلہ میں مقدمات بھی سابق میں درج کئے گئے تھے ۔ گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے انہیں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔
