۔5 اگسٹ سے قبل کشمیر میں انتشار کا عالم تھا:حکومت ہند

,

   

Ferty9 Clinic

پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام، وزیر خارجہ جئے شنکر کی نیویارک میں دانشوروں سے ملاقات

نیویارک 26 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں5 اگسٹ سے قبل ’’انتشار‘‘ کا عالم تھا۔ اسی دن ہندوستان نے جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر خارجہ ہندوستان ایس جئے شنکر نے کہاکہ یہ اقدام اِس لئے کیا گیا تھا تاکہ کسی نہ کسی مختلف بات کو آزمایا جاسکے تاکہ ریاست کی معیشت اور منظر نامہ تبدیل ہوسکے۔ دانشوروں کی کونسل کے ساتھ تبادلہ خیال کے ایک اجلاس میں جو غیر ملکی اُمور کے بارے میں تھا، وزیر خارجہ نے کہاکہ مودی حکومت کو دوبارہ عوام نے اِسی لئے اقتدار عطا کیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ماہ مئی میں بی جے پی کو دوبارہ برسر اقتدار لایا گیا تھا تاکہ کشمیر کی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اِس بات کو محسوس کیا گیا کہ دو متبادل اُس کے سامنے ہیں۔ یا تو پالیسیوں کا ازسرنو تعین کیا جائے جو گزشتہ 70 سال سے صرف کتابوں میں رکھی ہوئی ہیں، عملی اعتبار سے ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ 5 اگسٹ کو اعلان کیا گیا کہ کشمیر میں انتشار کا عالم ختم کیا جائے۔ چنانچہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا۔ دستور ہند کی دفعہ 370 منسوخ کردی گئی اور ریاست جموں و کشمیر کو دو مرکز زیرانتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ کیوں کہ کشمیر سے دفعہ 370 کی برخاستگی ہندوستان کا داخلی معاملہ تھا لیکن اسلام آباد اِس خبر کے ملتے ہی اِس میں دخل اندازی کررہا تھا۔ ہندوستانی سفیر کو پاکستان نے واپس بھجوادیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ حکومت کو توقع ہے کہ دستور کی دفعہ 370 کی تنسیخ کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے عوام کے ذہنوں سے علیحدگی پسندی کا احساس بھی ختم ہوجائے گا کیوں کہ وہ ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ ہیں۔ اُن کی کوئی علیحدہ حیثیت نہیں ہے۔ اِس سوال پر کہ آیا رجسٹریشن بشمول کانگریس کے مواصلاتی شعبہ میں حکومت کے اِس اقدام کو تسلیم کرلیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ دستور ہند کی دفعہ 370 منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر بھی ہندوستان کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکا ہے اور ہر ہندوستانی کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی۔ اُنھوں نے کہاکہ زمینی سرنگیں پہلے ہی سے صاف کی جارہی ہیں۔ موبائیل مینار تنصیب ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کھل کر معاشی سرگرمیوں میں تیز رفتار پیدا ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے برہان وانی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے آپ کو خود ہی دہشت گرد کی حیثیت سے پیش کیا کرتے تھے۔ اُنھیں 2016 ء میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جبکہ وادیٔ کشمیر میں تشدد عروج پر تھا۔ جئے شنکر نے کہاکہ اِس میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک پاکستان جب تک دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہے گا ہندوستانی عوام تشدد کی جانب مائل ہوتے رہیں گے۔