وزیر ٹرانسپورٹ ، مسائل کی یکسوئی میں ناکام ، ملازمین جیل جانے بھی تیار : یونین قائدین
حیدرآباد ۔ 5 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز): تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن ملازمین یونینوں پر مشتمل ٹی ایس آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کنوینر اشواتما ریڈی نے حکومت کو چیلنج کیا کہ اگر حکومت میں ہمت ہو تو انہیں ملازمت سے برطرف کر دکھائے ۔ واضح طور پر کہا کہ حکومت کی ان دھمکیوں سے نہ ہی وہ (اشواتما ریڈی ) بلکہ کوئی بھی آر ٹی سی ملازم ہرگز خوف زدہ نہیں ہوگا ۔ بلکہ مزید متحدہ طور پر اپنی شروع کردہ غیر معینہ مدت کی آر ٹی سی بس ہڑتال کو مطالبات کی یکسوئی تک جاری رکھنے کا اظہار کیا ۔ اشواتما ریڈی نے اخباری نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا وزیر ٹرانسپورٹ درحقیقت علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد سے واقف ہیں اور انہوں نے کبھی بھی علحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد میں آیا حصہ لیا تھا ؟ انہوں نے وزیر ٹرانسپورٹ پی اجئے کمار کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اس بات سے واقف کروایا کہ نہ صرف وہ (اشواتما ) بلکہ تمام آر ٹی سی ملازمین نے حصول علحدہ ریاست تلنگانہ کے لیے منظم کردہ جدوجہد میں اپنا سرگرم حصہ ادا کیا تھا ۔ جس کی روشنی میں ہی وہ اپنی شروع کردہ ہڑتال سے مطالبات کی یکسوئی تک موقف کو تبدیل کرنے کا ہرگز سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی سی ملازمین کے دیرینہ حل طلب مسائل کی یکسوئی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے 36 یوم قبل ہڑتال کی نوٹس دی گئی تھی اور ان 36 یوم میں کبھی ملازمین کے مطالبات پر غور کرنے کی وزیر موصوف کو فرصت نہیں ملی ۔ اشواتما ریڈی نے کہا کہ سہ رکنی اعلیٰ سطحی سینئیر آئی اے ایس عہدیداروں پر مشتمل تشکیل دی گئی کمیٹی کے ساتھ ہوئی بات چیت میں ٹی ایس آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے سے متعلق اصولی طور پر اتفاق کرنے کا بنیادی طور پر بیان جاری کرنے اور بعد ازاں شرائط و ضوابط مرتب کرنے کے لیے وقت لینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ لیکن کمیٹی ارکان نے اس سلسلہ میں کسی بھی نوعیت کا تیقن دینے میں ناکام رہے ۔ کنوینر ٹی ایس آر ٹی سی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مزید کہا کہ ٹی ایس آر ٹی سی کے زائد از 50 ہزار ملازمین اور ان کے افراد خاندان تمام ملا کر دو لاکھ سے زائد افراد حکومت کی دھمکیوں سے خوف زدہ نہ ہو کر جیل کو جانے کے لیے بھی تیار رہنے کا اعلان کیا ۔۔