بافندوں کو انشورنس اسکیم، سرسلہ میں میڈیکل اور انجینئرنگ کالجس ، کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ سے وعدہ کے مطابق57 سال سے زائد عمر کے افراد کو اولڈ ایج پنشن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنشن کے حصول کی اہلیت کی عمر کو 65 سال سے گھٹا کر 57 سال کردیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کسانوں کی طرز پر بافندوں ( ویوورس )کیلئے لائف انشورنس اسکیم متعارف کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت حادثاتی موت کی صورت میں 5 لاکھ روپئے حاصل ہوں گے۔ چیف منسٹر نے سرسلہ کے دورہ کے موقع پر ضلع کلکٹریٹ کامپلکس کے افتتاح کے بعد مجالس مقامی کے نمائندوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے وعدوں پر عمل کررہی ہے۔ بافندوں کیلئے لائف انشورنس اسکیم کے آغاز کی تیاریاں جاری ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی طاقت ان کے راستہ کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ریاست کی ترقی کا جو نشانہ انہوں نے مقرر کیا ہے اس کی تکمیل کیلئے وہ آگے بڑھ رہے ہیں۔ حکومت نے جو منصوبہ تیار کیا اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کئی افراد نے شبہات کا اظہار کیا تھا کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے بعد عوام کو کیا حاصل ہوگا، لیکن یہ اندیشے غلط ثابت ہوئے۔ حکومت نے یہ ثابت کردیا کہ اگر سنجیدگی، یکجہتی اور مقصد کے حصول کیلئے لگن ہو تو کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نے جو مقصد طئے کیا تھا اس کی طرف کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور نتائج ہر کسی کے سامنے عیاں ہیں۔ کے سی آر نے کہا کہ ہر دور میں سیاسی مخالفین رہے ہیں جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے چاہتے ہیں۔ ہمیں ایسی طاقتوں کو نظرانداز کرنا چاہیئے۔ کے سی آر نے کہا کہ حکومت ریاست میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران دلت امپاورمنٹ پر 45000 کروڑ خرچ کرے گی۔ چیف منسٹر نے نرسنگ طلبہ کے اسٹائیفنڈ میں اضافہ کا اعلان کیا۔ فرسٹ ایر کیلئے 1500روپئے سے بڑھا کر 5 ہزار، سیکنڈ ایر کیلئے 1700 کو بڑھاکر 6 ہزار اور تھرڈ ایر کے طلبہ کو 1900 روپئے سے اضافہ کرتے ہوئے 7 ہزار روپئے اسٹائیفنڈ دیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے سرسلہ کیلئے آئندہ سال گورنمنٹ میڈیکل کالج اور گورنمنٹ انجینئرنگ کالج کے قیام کا وعدہ کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ سرسلہ میں کمیونٹی ہال کی تعمیر کیلئے 5 کروڑ روپئے مختص کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے عوام کی دشواریوں کو دیکھتے ہوئے حکومت نے 10000 کروڑ سے انفرااسٹرکچر میں اضافہ کیا ہے۔ چیف منسٹر نے زرعی شعبہ کی ترقی سے متعلق اقدامات اور دریائے کرشنا کے پانی کے استعمال کے ذریعہ آبپاشی سہولتوں کی تفصیلات بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ 6 برسوں میں زراعت کو منافع بخش شعبہ میں تبدیل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی پروفیسر جئے شنکر اور ودیا ساگر راؤ کی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے دیہی علاقوں کی ترقی کا جامع منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلہ میں 8000 کروڑ کے خرچ سے بھیڑوں کی تقسیم عمل میں آئے گی۔