صرف 37 فیصد کو سرکاری دواخانوں کی سہولت ۔ اضلاع میں بستروں کا حصول مشکل
حیدرآباد۔کورونا سے متاثرہ 63 فیصد مریض خانگی دواخانوں میں علاج کروا رہے ہیں اور 37 فیصد مریضوں کو سرکاری دواخانوں میں علاج کی سہولت حاصل ہے۔ تلنگانہ کے اضلاع نظام آباد ‘ کھمم ‘ سوریہ پیٹ ‘ نلگنڈہ‘ ورنگل کے عوام کو سرکاری دواخانہ میں بھی بستر کا حصول انتہائی دشوار ہوچکا ہے اور اضلاع میں خانگی دواخانوں کی سہولت زیادہ نہ ہونے کے سبب ان اضلاع میں بھی عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا ہے ۔ اضلاع کے عوام میں بھی تیزی سے یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ ریاست کے سرکاری دواخانوں میں معیاری علاج کی سہولتیں نہیں ہیں اسی لئے وہ خانگی دواخانوں میں علاج کی کوشش میں ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ تلنگانہ کے اضلاع میںجو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس سے نمٹنا مستقبل میں دشوار کن ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ سرکاری دواخانوں کے متعلق دیہی و ضلعی عوام میں منفی رجحان پیدا ہونے کی صورت میں حالات ابتر ہو جائیں گے۔ ریاست میں کورونا مریضوں کی تعداد اور علاج کی سہولتوں کا جائزہ لینے کے بعد انکشاف ہوا کہ 63 فیصد مریضوں کا علاج خانگی دواخانوں میں ممکن ہوپایا ہے جبکہ 37 فیصد مریضوں کو سرکاری دواخانوں میں شریک کیا گیا اور انہیں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ تلنگانہ میں جملہ کورونا مریضوں میں بڑی تعداد کا خانگی دواخانوں سے رجوع ہوکر علاج کروایا جانا ان کے سرکاری دواخانوں پر اعتماد نہ ہونے کی دلیل ہے اور بیشتر اضلاع میں ایک یا دو سرکاری دواخانوں میں کورونا مریضوں کے علاج کی سہولتوں کے سبب عوام پریشان ہیں ۔ جن لوگوں کو تنفس کے مسائل ہیں ان کیلئے کئی اضلاع میں آکسیجن کی سہولت نہ ہونے سے اضلاع کے عوام شہر کے علاوہ نواحی علاقوں میں خانگی دواخانوں کا رخ کر رہے ہیں۔ خانگی دواخانو ںمیں لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہوئے اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ سرکاری دواخانو ںمیں علاج کی سہولتیں نہ ہونے کے سبب وہ صحت کیلئے دولت خرچ کررہے ہیں اور خانگی دواخانوں میں علاج کروارہے ہیں۔