۔79 فیصد اولیائے طلبہ بچوں کو اسکول روانہ کرنے راضی نہیں

   

آئندہ تین ماہ کی صورتحال کے بعد فیصلہ کرنے کا عزم ، بچوں کو ٹیکہ اندازی پر زور
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے ریاست میں اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن 79 فیصد اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے سلسلہ میں دریافت کئے جانے پر کہا جا رہاہے کہ وہ ابھی اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ حکومت تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے بعد ڈاکٹرس اور والدین کے ردعمل سامنے آچکے ہیں اور اسی دوران گذشتہ چند یوم میں کروائے گئے لوکل سرکلس کی جانب سے سروے کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ 79 فیصد اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے بچوں کو اسکول روانہ کرنے سے انکار کیا جا رہاہے۔ 49 فیصد اولیائے طلبہ اور سرپرستوںکا کہناہے کہ اگر ماہ ستمبر تک ان کے بچوں کی ٹیکہ اندازی کردی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ اپنے بچوںکو ٹیکہ اندازی کے بعد اسکول روانہ کرنے کیلئے تیار ہیں۔ 31 فیصد اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کا کہناہے کہ وہ آئندہ تین ماہ تک صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے سلسلہ میں فیصلہ کریں گے اور ماہ ستمبر تک بچوں کیلئے ٹیکہ کی فراہمی کی صورت میں ٹیکہ اندازی کے بعد ہی وہ اپنے بچوں کو ٹیکہ دلوائیں گے اور اسکول روانہ کریں گے۔لوکل سرکلس کی جانب سے کئے گئے اس سروے کے سلسلہ میں بتایاجاتا ہے کہ سروے کے دوران اولیائے طلبہ اور سرپرستوں سے دریافت کیا گیا ہے کہ وہ کن حالات میں اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے لئے تیار ہیں اور حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے متعلق وہ کیا نظریہ رکھتے ہیں جس پر سروے میں حصہ لینے والوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ سے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں میں تشویش پیدا ہوچکی ہے اور وہ اپنے بچوں کی صحت کے متعلق فکر مند ہیں۔ 33فیصد سروے میں حصہ لینے والوں کا کہناہے کہ وہ ان حالات میں کسی بھی صورت اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ ماہرین کی جانب سے واضح طور پر کہا جار ہاہے کہ جب تک ایک قابل لحاظ تعداد کو ٹیکہ نہیں دیا جاتا اس وقت تک کورونا وائرس کا شکار ہونے سے کسی کو محفوظ نہیں کیا جاسکتا اسی لئے وہ ریاست بھر میں قابل لحاظ افراد کی ٹیکہ اندازی کی تکمیل تک اپنے بچوں کو اسکول روانہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ لوکل سرکلس کی جانب سے کروائے گئے اس سروے میں زائد از 8500 اولیائے طلبہ اور سرپرستوں نے حصہ لیا ہے۔