رانچی : قومی تحقیقاتی ادارہ (این آئی اے) نے حقوق انسانی کارکن استان سوامی کو رانچی سے گرفتار کرلیا ۔ سوامی کے رفقاء نے بتایا کہ یہ گرفتاری شائد بھیما کوریگاؤں کیس میں ہوئی ہے ۔ اس سے قبل سوامی سے بیما کوریگاؤں کیس میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ سوامی رانچی میں باغیچہ سوشیل سنٹر سے گرفتار کئے گئے جہاں وہ مقیم تھے ۔ ان کی گرفتاری کیلئے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ این آئی اے کے عہدیدار ہٹ دھرمی کررہے تھے اور کسی سوال کا جواب نہیں دیا جارہا تھا ۔این آئی اے کے عملہ کا کہنا تھا کہ سوامی ایک ملزم ہے اور این آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار ایجنسی کے دفتر میں ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم یہ پتہ نہیں چل سکا کہ حراست میں لینے کے بعد انہیں کہاں منتقل کیا گیا ۔ آج دن میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے 83 سالہ سوامی نے کہا تھا کہ حال ہی میں این آئی اے نے 5 دن کے دوران ان سے 15 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی تھی ۔ یہ پوچھ تاچھ /27 سے /30 جولائی تک اور /6 اگست کو بھی ہوئی تھی ۔ عہدیداروں کا الزام تھا کہ سوامی کے ماؤسٹ طاقتوں سے تعلقات ہیں ۔ سوامی نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ یہ تمام دعوے فرضی اور بے بنیاد ہیں ۔ یہ اطلاعات ان کے کمپیوٹر میں ڈال کر انہیں پھنسایا گیا ہے جسے وہ مسترد کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خیال میں این آئی اے کی تحقیقات کا زور بھیما کوریگاؤں کیس سے دکھائی نہیں دیتا تھا ۔ اس کیس میں سوامی کو مشتبہ ملزم کے طور پر ماخوذ کیا گیا تھا ۔ اس سلسلہ میں دو مرتبہ ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ این آئی اے کورونا کے دوران ان سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ پوچھ تاچھ کرسکتی تھی ۔