10 ریاستوں میں وائرس کی موجودگی کاخطرہ

   

نئی دہلی :کیرالہ میں نپاہ انفیکشن سے 2 لوگوں کی موت کے بعد تمام ریاستوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم، ہندوستانی سائنسدان انتباہ کے بجائے حکومتوں سے نچلی سطح پر مداخلت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ نپاہ وائرس ملک میں چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔اب تک 10 ریاستوں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے اس کے باوجود ایک یا دو ریاستوں کو چھوڑ کر کوئی بھی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام نہیں کر رہا ہے۔ ہندوستان میں نپاہ کا پہلا کیس 2001 میں مغربی بنگال میں پایا گیا تھا۔ اسی ریاست میں 2007 میں دوسری بار اس کے مریض پائے گئے تھے، لیکن اس کے بعد 2018 میں تیسری بار کیرالہ میں نپاہ کے کیس سامنے آئے، جس میں 16 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ تب سے نپاہ انفیکشن خود کیرالہ میں چار بار پھیل چکا ہے جس نے 19 لوگوں کی جان لی ہے۔ تاہم کیرالہ کے علاوہ، ٹاملنا ڈو، گوا، کرناٹک، مہاراشٹرا، بہار، مغربی بنگال، آسام، میگھالیہ اور پڈوچیری میں متاثرہ چمگادڑ پائے گئے ہیں۔