نئی دہلی ۔ جمعرات کو سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں کولکتہ ڈاکٹر عصمت ریزی اور قتل مقدمہ کی تحقیقات کی موقف رپورٹ داخل کی ہے۔ اس معاملے پر عدالت میں سماعت جاری ہے۔ دریں اثنا ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور لوک سبھا ایم پی ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک پر ایک بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے آرجی میڈیکل کالج کا واقعہ ہوا ہے، 10دنوں میں ملک بھر میں900 مزید عصمت ریزی کے واقعات ہوئے ہیں۔ جب لوگ انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل رہے ہیں، اسی وقت عصمت ریزی کے مزید واقعات ہو رہے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان واقعات کے مستقل حل کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔ ابھیشیک بنرجی نے کہا،ہر روز90 عصمت ریزی کے واقعات ہو رہے ہیں، ہر گھنٹے میں 4 عصمت ریزی اور ہر 15 منٹ میں 1 واقعہ ہو رہا ہے، اس پر فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے مضبوط قوانین کی ضرورت ہے جو50 دنوں کے اندر تفتیش اور سزاکو یقینی بنائیں اور سخت سزائیں دی جائیں، نہ کہ محض خالی وعدوں پر عوام کو تسلی دی جائے۔ ریاستی حکومتوں کو کارروائی کرنا چاہیے اور مرکز پر فوری دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ ایک جامع انسداد عصمت ریزی کا قانون بنائے جو کہ اس سے کم کوئی بھی چیز محض باتیں ہوں گی اور اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اپنی پوسٹ کے آخر میں انہوں نے کہا کہجاگو ہندوستان‘‘۔یادرہے کہ سی بی آئی نے اپی رپورٹ میں کولکتہ واقعہ کے ضمن میں 25 افراد سے پوچھ گچھ کا حوالہ دیا ہے ۔دوسری جانب اس واقعہ کے بعد ہندوستان بھر میں احتجاج کیا جارہاہے ۔