حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : آر ٹی سی بسوں میں سفر کرنے والے مسافرین کے لیے کوئی راحت نہیں ہوئی ہے حالانکہ ٹی ایس آر ٹی سی ملازمین نے ان کی ہڑتال ختم کردی ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TSRTC) نے تقریبا 1,100 روٹس پر بسوں کو مستقل طور پر ہٹالیا ہے ۔ اس طرح مسافرین کے لیے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں ۔ چونکہ اب بسوں کی ٹرپس کم ہورہی ہیں اس لیے جو بھی بسیں چلائی جارہی ہیں وہ مسافرین سے کھچا کھچ بھری ہوئی نظر آرہی ہیں ۔ پہلے ہر پانچ منٹ پر بسیں ہوا کرتی تھیں لیکن اب ہم کو بس کے لیے کم از کم 20 منٹ انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ تارناکہ کے ساکن ایم پرمیش نے یہ بات کہی ۔ چند بسیں جو دیر سے پہنچتی ہیں وہ بھی مسافرین سے بھری ہوئی ہوتی ہیں ۔ ہم فٹ بورڈ پر سواری کرنے یا آٹو رکشا کے ذریعہ سفر کرنے پر مجبور ہیں جو معمول کے کرایہ سے دو گنا کرایہ چارج کرتے ہیں ۔ پرمیش نے کہا کہ ’ بعض مصروف روٹس ۔ روٹ 136 کوٹھی تا کلیان پیری ، روٹ 3k اور 3kn ای سی آئی ایل تا افضل گنج اور 24s ای سی آئی ایل تا سوچترا پر بھی بسوں کی تعداد کو کم کردیا گیا ہے ۔ ‘ نہ صرف یہ بلکہ شہر کے کئی علاقوں سے صبح سکندرآباد ریلوے اسٹیشن جانے والی بسوں کو بھی روک دیا گیا ہے ۔ مسافرین نے یہ بات بتائی ۔ بس میں روزانہ سفر کرنے والے جنرل سکریٹری تلنگانہ آٹو اینڈ موٹر وہیکل اسوسی ایشن ایم دیانند نے کہا کہ پہلے صبح کی چند بسیں تھیں جو ان مسافرین کے لیے صبح 4-30 بجے اور 5 بجے شروع ہوتی تھیں جنہیں سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہنچ کر انٹر سٹی ٹرینس میں سوار ہونا رہتا تھا جو صبح 5-30 یا 6 بجے روانہ ہوتی ہیں ۔ ان سروسیس کو بھی اب منسوخ کردیا گیا ہے ۔ یہ بسیں صبح 6 بجے اور 7 بجے شروع ہورہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ ایک آٹو رکشا ڈرائیور کے بتانے تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ ’ ارلی مارننگ بس سروسیس ‘ کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ ٹی ایس آر ٹی سی انتظامیہ کئی روٹس پر بسوں کی منسوخی پر کم از کم عوام کی رائے حاصل کرسکتا تھا ۔ انہیں کم از کم اس فیصلہ کے بارے میں بتاتے ہوئے نوٹس دینا چاہئے تھا ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے ذرائع نے بتایا کہ کارپوریشن نے اب تک عوام کو کوئی نوٹس دئے بغیر 1,100 روٹس پر چلائی جانے والی تقریبا 6000 ٹرپس کو برخاست کردیا ہے ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے ایک سینئیر عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط کے ساتھ کہا کہ ہر ڈپو سے تقریبا 25 بسوں کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ ان بسوں کے ڈرائیورس اور کنڈکٹرس ڈپوز کو صبح 5-30 بجے آرہے ہیں اور 5 بجے شام روانہ ہورہے ہیں ان کے لیے کوئی کام نہیں ہے ۔ ’ گریٹر حیدرآباد ریجن میں ہزاروں مسافرین کو کھچا کھچ بھری ہوئی بسوں کے باعث کافی مشکلات ہورہی ہیں اور انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ تاہم یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ کئی روٹس کو منسوخ کیا گیا ہے ۔ ٹی ایس آر ٹی سی کے بعض عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ کارپوریشن نے صرف نقصان دہ روٹس پر بسوں کو روکا ہے ۔ کشائی گوڑہ ڈپو منیجر جی پال نے کہا کہ ’ ہمارے ڈپو میں 129 کے منجملہ 44 بسوں کو ان کے روٹس سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب ہے تقریبا 300 ٹرپس کو منسوخ کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح مابقی 28 ڈپوز میں بھی ہر ڈپو میں تقریبا 30 بسوں کو ہٹا دیا گیا ہے ۔ حکومت کارپوریشن کے نقصانات پر قابو پانے کے لیے ایسا کررہی ہے ۔۔