عمرعبداللہ کی نظربندی ختم، 8 ماہ بعد رہائی

,

   

کورونا وائرس سے نمٹنے کی ضرورت پر زور

سری نگر24مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر حکومت نے منگل کو سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی نظر بندی قریب 8 ماہ بعد ختم کردی۔قبل ازیں حکومت نے نیشنل کانفرنس کے صدر و ایم پی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی نظر بندی 13 مارچ کو ختم کردی تھی ۔ جموں وکشمیر حکومت کے ترجمان روہت کنسل نے اپنے ٹویٹر پر عمر عبداللہ کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا:’حکومت نے عمر عبداللہ کی نظر بندی ختم کرنے احکامات جاری کئے ہیں‘۔بتادیں کہ مرکزی حکومت کے سال گزشتہ کے پانچ اگست کے آئینی دفعات 370 و 35 اے کی تنسیخ اور سابق ریاست جموں وکشمیر کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے پیش نظر عمر عبداللہ کو بھی نظر بند رکھا گیا تھا۔ نظری بندی کے دوران ان کی تمام تر سرگرمیاں محدود ہوئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ان کی ریش دراز تصویر سیاسی و عوامی حلقوں میں مباحثے کا موضوع بن گئی تھی ۔ عمر عبداللہ نے سال1998 میں اپنی سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز کیا اور این ڈی اے حکومت کے دوران 23 جولائی 2001 تا 23 دسمبر 2002 وزیر مملکت برائے خارجہ رہے ۔سیاسی کیریئر کے روز اول سے ہی عمر عبداللہ کا اپنے بیانات اور تقاریر کے باعث پارٹی اور سیاسی حلقوں میں طوطی بولنے لگا اور لوگ انہیں اپنے والد ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نسبت سنجیدگی سے لینے لگے ۔سیاسی میدان میں کئی نشیب وفراز دیکھنے کے بعد عمر عبداللہ سال 2009 میں جموں کشمیر کے سب سے کم عمر چیف منسٹر بنے ۔ اس دوران انہیں جموں کشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں خاصی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی۔ سال گزشتہ کے ماہ اگست کی پانچ تاریخ کو مرکزی حکومت نے آئینی دفعات 370 و 35 اے کی تنسیخ اور ریاست کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کرنے کے فیصلوں کے ساتھ ہی عمر عبداللہ کی سیاسی سرگرمیاں بھی مفلوج ہوکر جیل کی سرگرمیوں میں تبدیل ہوگئیں۔عمر عبداللہ گزشتہ سات ماہ سے جیل میں ہیں اور ان پر بائیکاٹ کے باوجود لوگوں کو ووٹ ڈالنے پر راغب کرنے اور سوشل میڈیا پر لوگوں کو مشتعل کرنے کے پاداش میں فروری کے پہلے ہفتے میں پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا۔ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد ریاست کے کئی قائدین کو نظربند کردیا گیا تھا جنھیں مرحلہ وار رہا کیا جارہا ہے۔