سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی میں لاپرواہی کے الزامات ۔ حکومت سے موثر پیروی کیلئے بھی بارہا اپیلیں بے اثر
حیدرآباد 17 اگسٹ(سیاست نیوز) کے چندرشیکھر راؤ نے تشکیل تلنگانہ سے قبل ‘جدوجہد تلنگانہ کے دوران اور تشکیل تلنگانہ کے بعد انتخابی مہم میں اعلان کیا تھا کہ اگر تلنگانہ میں ان کی پارٹی اقتدار حاصل کرتی ہے تو ابتدائی 4ماہ میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کئے جائیں گے لیکن حکومت کی جانب سے مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے کوئی احکام جاری کئے گئے اور نہ مسلم تحفظات میں اضافہ کیلئے کوئی آرڈیننس کی اجرائی عمل میں آئی بلکہ اب مسلم نمائندوں کو اسمبلی میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے مقدمہ میں مؤثر پیروی پر حکومت کو متوجہ کرنا پڑرہا ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں زیر دوراں 4فیصد مسلم تحفظات کے مقدمہ میں حکومت کی عدم دلچسپی کی متعدد شکایات ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد حکومت سے دلتوں کو تحفظات میں اضافہ کیلئے اسمبلی میں مسلم تحفظات بل کے ساتھ منظور ہوا تھا لیکن مرکزی حکومت کے پاس دونوں بل زیر التواء ہیں لیکن بی آر ایس نے دلت تحفظات میں اضافہ کیلئے آرڈیننس جاری کردیا اور اضافہ کے بعد اب جو تقررات کئے جارہے ہیں ان پر عمل بھی کیا جانے لگا ہے لیکن مسلم تحفظات کیلئے حکومت سے کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور گذشتہ انتخابات کے دوران چیف منسٹر سے اس معاملہ میں راست استفسارات پر جواب دینے کے بجائے ڈانٹ کر چپ کروایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ حکومت 12فیصد مسلم تحفظات کیلئے سنجیدہ ہے لیکن اب جبکہ تشکیل تلنگانہ کے 10 سال میں ہیں لیکن چندر شیکھر راؤ کی جانب سے کیا گیا کے سی آر کا 4 ماہ کا وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ 4 فیصد مسلم تحفظات پر بھی تلوار لٹک رہی ہے ۔ اگر محض حکومت ہی فریق ہوتی تو پتہ نہیں اب تک اس مقدمہ کی کیا صورتحال ہوتی ! تلنگانہ اور آندھراپردیش میں ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی حکومت میں کانگریس کے دئیے گئے 4 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کیا جا رہاہے اور ان کے احکام کی اجرائی سے قبل حکومت سے بی سی کمیشن کے اجلاس منعقد کرکے مسلمانوں کی معاشی ابتری کے متعلق تفصیلی رپورٹ حاصل کی گئی تھی اور اس کی بنیاد پر مسلمانوں کے تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو بی سی (ای) زمرہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حکومت سے 12 فیصد مسلم تحفظات معاملہ پر مکمل خاموشی پر منتخبہ مسلم نمائندوں کی جانب سے حکومت سے استفسار کی بجائے اپیل کی جا رہی ہے کہ حکومت 4 فیصد تحفظات کے مقدمہ میں جو سپریم کورٹ میں زیر دوراں ہے مؤثر پیروی کو یقینی بنائے۔ حکومت کی جانب سے مسلمانو ںکے متعلق بے اعتنائی پر پارٹی ذرائع کا کہناہے کہ حکومت کو موصول اطلاعات میں توثیق ہونے لگی کہ مسلم ووٹ اب منتشر ہونے والے نہیں ہیں اور نہ بی آر ایس کو ملنے کے امکانات رہ گئے ہیں اسی لئے حکومت نے مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے غریب مسلمانوں کو ایک لاکھ روپئے تک کی 100 فیصد سبسیڈی فراہم کرکے ان کو قریب کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سرکردہ شہریوں کا کہناہے کہ مسلمانوں کو اب مزید گمراہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ وعدوں کو پورا کئے بغیر حکومت کو مسلم ووٹ کے حصول کی توقع کرنی چاہئے ۔ ضلعی سطح پر سرکردہ مسلمانوں کی جانب سے کہا جا رہاہے اگر مسلم تنظیموں یاان کے اتحاد کی جانب سے بی آر ایس کے حق میں انتخابی مہم چلائی یا اپیل کی جاتی ہے تو بھی عوام بی آر ایس کی تائید نہیں کرینگے کیونکہ 12 فیصد تحفظات میں حکومت گذشتہ 9 سال سے مسلمانوں کو دھوکہ دیتی آرہی ہے۔
