بیروت : لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کیلئے دونوں ملکوں کے مندوبین کی امریکی حکام کیساتھ بات چیت جاری ہے۔ لبنان نے سمندری سرحدوں کی حد بندی کے سلسلے میں اسرائیل کیساتھ مذاکرات کیلئے جو وفد تشکیل دیا ہے اس نے جنوبی لبنان میں اگلے ہفتے کے وسط میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام دونوں فریقوں کے مابین بات چیت کے آغاز سے قبل مسلح افواج کے کمانڈر جنرل جوزف آون سے ملاقات کی۔تقریبا 10 دن پہلے لبنان اور اسرائیل نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جنوبی لبنان کے شہر الناقورا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذاکرات شروع کرنے کے بارے میں ایک سمجھوتہ طے پایا ہے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوںکے درمیان سمندری حدود کے تعین کے لیے امریکہ ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کرے گا۔ اس حوالے سے پہلی باضابطہ بات چیت آئندہ چہارشنبہ کو ہوگی۔لبنانی فوج کے چار رکنی وفد نے پہلی سرکاری میٹنگ میں آرمڈ فورسز کے کمانڈر سے ملاقات کی۔ لبنانی فوج نے اعلان کیا کہ جنرل جوزف عون نے سرحدوں کی حد بندی کرنے کیلئے مذاکرات کمیٹی کے سربراہ سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے سمندری سرحدوں کی نشاندہی کے مقصد کیساتھ بحری سرحدوں کی نشاندہی کرنے کیلئے بنیادی ہدایات دی ہیں جو راس ناقورہ سے شروع ہوتی ہے۔لبنانی وفد میں شامل چار ارکان میں دو فوجی اور دو سول عہدیدار شامل ہیں۔ فوجی افسران میں بریگیڈیئر جنرل بسام یاسین ، کرنل مازن بصبوص ،تکنیکی ماہر نجیب مسیح اور پیٹرولیم سیکٹر اتھارٹی کے سربراہ وسام شباط شامل ہیں۔
