لندن- انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے ایک ایسے شعبے کی نشاندہی کی ہے جسے ہندوستانی ٹیم انڈیا مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اگر وہ گھر سے باہر اپنے ٹسٹ ریکارڈکو بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اس سیزن میں پہلی آئی سی سی ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کا خطاب جیتنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان جہاں گھریلو سرزمین پرکچھ بڑی کامیابیوں کی بدولت آئی سی سی ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے تازہ ترین فائنل میں پہنچا، وہیں برصغیر سے دور ان کی فارم مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ہندوستان نے حال ہی میں کیریبین میں ویسٹ انڈیز کو1-0 سے شکست دی اورگزشتہ سال کے آخر میں بنگلہ دیش میں کچھ عمدہ کرکٹ کھیلی اور ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل میں پہلی بار شرکت کی طرف قدم بڑھایا جائے، لیکن روہت شرما کی ٹیم کے لیے گھر سے باہر نتائج ملے جلے رہے ہیں۔ ناصرحسین کا خیال ہے کہ جب گھر پر کھیلتے ہیں تو ہندوستان کے پاس ترقی جاری رکھنے کے لیے کھلاڑیوں کا صحیح امتزاج ہوتا ہے۔ حسین نے دی آئی سی سی ریویو کے تازہ ترین ایپی سوڈ پرکہا وہ گھر پر شاندار ہیں اورگھر پر ان کی ٹیم کا توازن بہت ہی شاندارہوتا ہے۔ان کے پاس روہت اور ظاہر ہے کہ ویرات (کوہلی) جیسے سینئر کھلاڑی ہیں اور وہ عالمی معیارکے کھلاڑی ہیں اور ان کے پاس نوجوان آئے ہیں، جیسے شبمن (گل)، جو ایک سوپر اسٹار بننے جا رہے ہیں۔ اگر جسپریت (بمراہ) بھی واپس آسکتے ہیں، تو اس وقت بہترین ملٹی فارمیٹ کے بولروں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان میں تین آل راؤنڈرز اکشر (پٹیل)، (رویندرا) جڈیجہ اور (روی چندرن) اشون ، اور وہ ہندوستان کے حقیقی آل راؤنڈر ہیں ، لیکن یہ گھر سے دور ہندوستان کی ٹیم کا توازن ہے جو حسین کے لیے سوالیہ نشان بنا ہوا ہے اور اس کا واضح ثبوت اس وقت ہوا جب جون میں ورلڈ ٹسٹ چمپئن شپ کے فائنل کی دوسری ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف شکست ہوئی۔ حسین جانتے ہیں کہ اگر وکٹ کیپر بیٹر رشبھ پنت مکمل فٹنس پر واپس آجاتے ہیں تو ہندوستان کا مڈل آرڈر مضبوط ہو جائے گا، لیکن ایسے سیم بولر کی کمی جو بیٹنگ بھی کر سکے ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ حسین نے مزید کہا میں ایشیز کے دوران رکی (پونٹنگ) کے ساتھ بہت سفر کررہا تھا، اور وہ رشبھ کو ٹیکسٹ کر رہا تھا اور رشبھ جم میں تھا، اور وہ اپ ڈیٹس حاصل کر رہا تھا۔ اس وقت ان کی بہت زیادہ کمی محسوس کی جارہی ہے اور امید ہے کہ وہ جلد واپس آئے گا۔ان کی واپسی کے بعد گھر سے دور ہندوستان کیلئے ٹیم کا توازن ہنوز تشویش کا باعث ہے ۔ بہترین ہوتا اگر ہاردکپانڈیا فٹ رہتے اور اس کرکٹ کو جاری رکھتے۔ اس وقت ہندوستانی ٹیم کو ایک (بین) اسٹوکس ، کیمرون گرین یا مچل مارش جیسے کرکٹر کی ضرورت ہے جو گھر سے باہر کی سیریزوں میں نمبر 6 یا نمبر7 کا بیٹر ہو اورجو آپ کو 10 یا 15 اوورس کی بولنگ کرسکے ۔ حقیقی وکٹ لینے والی سوئنگ اوورزس کرسکے۔ ایسا بولر نہیں جو تھوڑا سی بیٹنگ کرے۔ ناصر حسین ہندوستان کے مڈل آرڈر کے بارے میں کچھ فکر مند ہیں، لیکن انہیں ان کے ٹاپ آرڈر کے بارے میں کوئی ایسی ہی فکر نہیں ہے اور ان کا خیال ہے کہ نوجوان اوپنر یاشسوی جیسوال اپنے ٹسٹ کیریئر کا شاندار آغاز کرنے کے بعد طویل کرکٹ کیلئے اچھی طرح سے تیار ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ کھلاڑی ہیں جوآتے ہیں اور فوری طور پر کامیابی حاصل کرتے ہیں اور یہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے لیے ایک اچھی علامت ہے، کہ وہ نہ صرف آئی پی ایل کے لیے تیارکیے جا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کیلئے بھی ان کی آمد خوش آئند ہے۔ انگش ٹیم کے سابق کتپان نے مزید کہا میں ان نوجوانوں کو دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں، تکنیکی طور پر وہ بہت ہونہار نظر آتے ہیں کیونکہ وہ روہت کو دیکھنے یا ویرات کو دیکھنے یا ان کی سرپرستی میں پرورش پاتے ہیں، آپ جانتے ہیں، ویراٹ نے سچن کو دیکھا اور سچن سنیل گواسکرکو دیکھتے تھے۔