محمد علی شبیر کا الزام، اپوزیشن کے رائے دہندوں کو لاکھوں روپئے میں خریدا گیا
حیدرآباد۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ نظام آباد مجالس مقامی کی ایم ایل سی نشست کیلئے اپنی دختر کو کامیاب بنانے کے سی آر نے دولت اور اقتدار کا بیجا استعمال کیا ہے۔ صرف 15 ماہ کی میعاد کیلئے حکومت نے تقریباً 100 کروڑ روپئے خرچ کردیئے جس کے ذریعہ کانگریس، بی جے پی اور آزاد عوامی نمائندوں کی جانوروں کی طرح خرید و فروخت کی گئی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اپنی دختر کی کامیابی کیلئے فکر مند تھے۔ اکثریت حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے لاکھوں روپئے دے کر اپوزیشن کے مقامی عوامی نمائندوں کو خریدا تاکہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہو۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ صرف 15 ماہ کی میعاد کیلئے 100 کروڑ خرچ کئے گئے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کو پارٹی میں اندرونی بغاوت کا خطرہ تھا لہذا اپوزیشن کے قائدین کو خریدا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نظام آباد کے مجالس مقامی کے نمائندوں کو 76 کروڑ روپئے کے کام منظور کئے۔ ریاست کے کسی بھی حلقہ میں چیف منسٹر نے اس قدر کاموں کی منظوری نہیں دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک، ایک کونسلر کو 10 لاکھ جبکہ کارپوریٹر کو 25 لاکھ روپئے دے کر خریدا گیا۔ ایم پی ٹی سی اور زیڈ پی ٹی سی ارکان کو فی کس 20 لاکھ روپئے میں ووٹ کیلئے خریدا گیا۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے مجالس مقامی کے نمائندوں کی ناراضگی دیکھتے ہوئے انہیں فی کس 5 لاکھ روپئے ادا کئے گئے۔ کانگریس، بی جے پی کے علاوہ آزاد رائے دہندوں کی کھلے عام بولی لگائی گئی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن بھی خاموش تماشائی بنا رہا۔ ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کو رائے دہی کا انچارج مقرر کیا گیا تھا جو اپوزیشن کے عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت میں مصروف تھے۔ دستور کی 73 اور 74 ویں ترمیم کے تحت مجالس مقامی کے نمائندے اپنی میعاد کی تکمیل تک پارٹی تبدیل نہیں کرسکتے لیکن نظام آباد میں سکریٹ پولنگ کا فائدہ اٹھاکر خرید و فروخت کی گئی ہے۔ دن دھاڑے اپوزیشن کے ووٹرس کو جانوروں کی طرح بولی لگاکر خریدا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار اور کامیابی کیلئے کے سی آر کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں اور نظام آباد کا ایم ایل سی الیکشن اس کا کھلا ثبوت ہے۔ ٹی آر ایس کی یہ سرگرمیاں جمہوری نظام کو کمزور کرسکتی ہیں۔