200 اسرائیلی افراد یرغمال ہیں، حماس کا دعویٰ

   

یرغمالیوں کیساتھ انسانی ہمدردی کا سلوک، 21 سالہ لڑکی کے علاج کا ویڈیو وائرل

غزہ سٹی: فلسطین کی بنیاد پسند گروپ حماس نے انکشاف کیا ہے کہ اس نے تقریباً 200 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔اور حماس نے تازہ ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ یرغمالیوں کے ساتھ انسانی سلوک کر رہے ہیں۔ ویڈیو میں میا سکیم نامی 21 سالہ خاتون کے ہاتھ پر آنے والے زخم کی مرہم پٹی کی جارہی ہے۔چند روز قبل حماس کے کارکنوں نے اسرائیل میں غیر قانونی طور پر گھس کر کچھ لوگوں کو اغوا کر لیا تھا۔ 21 سالہ میا ان یرغمالیوں میں سے ایک ہے۔ ایک نامعلوم طبی کارکن کا اس کا علاج کرتے ہوئے ویڈیو فی الحال وائرل ہو رہا ہے۔ آئی ڈی ایف نے اس ویڈیو پر ایک بیان بھی جاری کیا۔آئی ڈی ایف نے کہا کہ حماس نے ویڈیو کو انسانی ہمدردی کا نقطہ نظر پیش کرنے کے لیے جاری کیا، لیکن حقیقت میں یہ تنظیم ظالم ہے۔ اسرائیل ڈیفنس فورس نے الزام لگایا کہ حماس بچوں اور خواتین کو لے جا رہی ہے۔ اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے کہا کہ میا اور حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے افراد کو بحفاظت واپس لانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔میا کو سپر نووا سککوٹ میوزک فیسٹیول میں شرکت کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔میوزک فیسٹیول پر حملے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ میا کے ساتھ کچھ اور لوگوں کو بھی اغوا کیا گیا۔آئی ڈی ایف نے کہا کہ وہ میا کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں غزہ پٹی میں اقوام متحدہ کی 24سہولت مراکزکو نقصان
جنیوا: سات اکتوبر سے غزہ پٹی پر اسرائیلی حملوں اور بمباری سے فلسطینی مہاجروں کیلئے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے ) کی تقریباً 24 سہولت مراکز کو نقصان پہنچا ہے ۔ ایجنسی نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں یو این آر ڈبلیو اے کی 24 سہولت مراکز فضائی حملوں اور بمباری کے نتیجے میں متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے ، حالانکہ اصل تعداد زیادہ ہونے کا امکان ہے ۔