نئی دہلی: اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اتوار کے روز کہا کہ کسی بھی بینک میں ایک وقت میں 2000 روپے کے نوٹ دوسرے مالیت کے نوٹوں کے ساتھ بدلے جا سکتے ہیں۔ نوٹ بدلنے کی حد 20000 روپے ہے۔ یعنی 20000 روپے کے نوٹ ایک ہی بار میں بدلے جائیں گے۔ نیز، نوٹوں کے بدلنے کے وقت صارفین کو شناختی ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بینک کے بیان کی وضاحت سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں اور غلط معلومات کے درمیان آئی ہے جس میں صارفین سے آدھار کارڈ جیسے شناختی دستاویزات کے ساتھ ایک فارم جمع کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔آر بی آئی نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ نومبر 2016 میں نوٹ بندی کے دوران متعارف کرائے گئے 2,000 روپے کے نوٹوں کو بینک کھاتوں میں جمع کرائیں یا کسی بھی بینک برانچ میں دیگر مالیت کے نوٹوں میں تبدیل کریں۔ آر بی آئی نے بینکوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر 2000 روپے کے نوٹ جاری کرنا بند کر دیں۔2000 روپے کے نوٹ لین دین اور دیگر ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔ تاہم، یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ واپس لیے گئے نوٹوں کو ستمبر کے آخر تک تبدیل کرلیا جائے۔واضح رہے کہ 8 نومبر 2016 کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد 500 اور 1000 روپے کے تمام نوٹ چلن سے باہر ہو گئے تھے۔ ان کرنسیوں کی جگہ ریزرو بینک نے 500 اور 2000 روپے کے نئے نوٹ جاری کرنے کا کام کیا۔ ریزرو بینک کا خیال تھا کہ 2000 روپے کا نوٹ آسانی سے ان نوٹوں کی قیمت کی تلافی کر دے گا، جو چلن سے باہر ہو گئے تھے۔ سال 2021 میں مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ پچھلے دو سالوں سے 2000 روپے کے نوٹ کی چھپائی نہیں ہوئی ہے۔
