2000 کے کرنسی نوٹ کی واپسی کے فیصلے کے منفی اثرات

   

ماہرین کا دعویٰ ، 2016 کی نوٹ بندی سے کئی صنعتی ادارے اب بھی پریشان
حیدرآباد۔30۔مئی۔ (سیاست نیوز) ہندستانی کرنسی میں کیا 2000 کے کرنسی نوٹ کی ہے جس کے چلن کو بند کیا گیا!ہندستان میں 2000 کے کرنسی نوٹ سے قبل 10000کے کرنسی نوٹ بھی چلن میں تھے جنہیں حکومت نے 1978 میں دوسری مرتبہ منسوخ کیا تھا ۔ جنتا پارٹی حکومت کی جانب سے کی گئی اس تنسیخ سے قبل بھی 10000کے کرنسی نوٹ موجود تھے جنہیں 1935 میں جاری کیا گیا تھا اور 1946میں پہلی مرتبہ ان 10 ہزار کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کیا گیا تھا ۔ ان بڑی کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد سال 2016 میں بی جے پی حکومت نے 1000 اور 500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ کیا تھا اور 2016 میں ریزرو بینک آف انڈیا نے فیصلہ کرتے ہوئے 2000 کے کرنسی نوٹ جاری کئے تھے جنہیں 2023 میں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے 2016 میں کی گئی تنسیخ کے بعد جاری کئے گئے 2000 کے کرنسی نوٹ فی الحال ہندستان میں چلائی جانے والی کرنسی کے سب سے بڑے نوٹ تھے اور ان کرنسی نوٹوں کو واپس لینے کے فیصلہ کے بعد اب ہندستانی کرنسی میں محض 500 روپئے کے کرنسی نوٹ رہ گئے ہیں جو کہ سب سے بڑی کرنسی نوٹ ہے۔یکم اپریل 1935 کو ریز رو بینک آف انڈیا کے قیام کے بعد جاری کی گئی بڑی کرنسی نوٹوں میں 1000اور 10000 کے کرنسی نوٹ موجود تھے جو کہ 1938میں جاری کئے گئے لیکن اس وقت کی برطانوی حکومت نے 1946میں ان 10000 کے نوٹوں سے دستبرداری اختیار کرلی تھی۔1946 میں ہوئی کرنسی تنسیخ کو ہندستان کی پہلی کرنسی تنسیخ قرار دیا جاتا ہے جبکہ 1954 میں آزاد ہندستان میں دوبارہ حکومت ہند نے ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ 1000او ر 10000کے کرنسی نوٹ جاری کئے تھے جنہیں 1978 میں جنتا پارٹی زیر قیادت حکومت نے منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ آزاد ہندستان میں پہلی کرنسی تنسیخ تھی ۔اس کے بعد حکومت نے 1987میں 500 کے کرنسی نوٹ روشناس کروائے اور پھر سال 2000 میں 1000 کے کرنسی نوٹ جاری کئے گئے ۔2016میں بی جے پی حکومت کی جانب سے 1000 اور 500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے اعلان کے بعد 2000 کے کرنسی نوٹ جاری کئے گئے تھے لیکن جاریہ ماہ کے دوران حکومت نے 2000 کے کرنسی نوٹوں کی اجرائی کو بند کرتے ہوئے انہیں 30 ستمبر تک واپس حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے 2000کے کرنسی نوٹوں کی واپس وصولی کے اعلان کے ساتھ ہی مختلف قیاس آرائیاں کی جانے لگی ہیں اور کہاجا رہاہے کہ 1000 روپئے کے کرنسی نوٹ دوبارہ جاری کئے جاسکتے ہیں لیکن گورنر ریزرو بینک آف انڈیا مسٹر شکتی کانتا داس نے ان قیاس آرائیوں کے متعلق کہا کہ 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کی دوبارہ اجرائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔ریزرو بینک آف انڈیا کی اس وضاحت کے بعد اب کہا جا رہاہے کہ ہندستان میں اب سب سے بڑی کرنسی نوٹ 500 روپئے کی ہی ہوگی اور اس سے بڑی کرنسی کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔ 2016 میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے ساتھ ہی جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کا شکار اب تک بھی کئی صنعتی ادارے ہیں اور ان صنعتی اداروں کے حالات کو بہتر بنانے کی کوششوں کے دوران اب 2000 کے کرنسی نوٹوں کو واپس لینے کے فیصلہ کے منفی اثرات کے متعلق بھی ماہرین معاشیات دعویٰ کر رہے ہیں۔م