24 گھنٹوں میں 3 فلسطینیوں کی شہادت ، نابلس میں مکمل ہڑتال

,

   

نابلس : قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران تین فلسطینیوں کی شہادت کے سلسلے میں جمعرات کے روز نابلس میں احتجاجاً ہڑتال کی گئی۔ اس دوران نابلس مینںمارکیٹیں، بازار ، کاروبار ، تعلیمی ادارے اور دفاتر وغیرہ بند رکھے گئے۔نابلس شہر میں مکمل شٹر ڈاون کا ماحول تھا۔ ان تین شہدا میں سے 30 سالہ محمد حرزاللہ شہید ہوا ، اسے قابض فوج نے ماہ جولائی میں فائرنگ کر کے زخمی کیا تھا۔دوسرے شہید کا نام محمد ابو کشک ہے۔ 22 سالہ ابو کشک اور اس کے ساتھ 16 سالہ احمد شہادہ کو اسرائیلی قابض فوج نے منگل کی رات نابلس کے مشرقی حصے میں فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا۔نابلس کے رہنے والے ان تین شہدا کی یکے بعد دیگرے ہونے والی شہادت کے سلسلے میں نابلس کے شہریوں نے مکمل ہڑتال کی۔دریں اثنا شہید فلسطین حرزاللہ اور شہید ابو کشک کے جنازوں کے جلوس میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے شرکت کی۔ ان دو شہیدوں کو جمعرات کے روز سپرد خاک کیا گیا۔
تحریک میں حصہ لینے کے پاداش میں
4 فلسطینی کو قید کی سزا
صیہونی عدالت نے مقبوضہ علاقوں کے قصبے طمرا سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کو قید کی سزائیں سنائیں۔ ان فلسطینی نوجوانوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ’سیف القدس‘ کے دوران مئی 2021 میں ھب الکرامہ احتجاجی تحریک میں حصہ لیا تھا۔قابض فوج نے نوجوان محمد ابو رومی، محمد ابو الھیجا اور بہا ابو الھیج کو 7 سال قید کی سزا سنائی جب کہ نوجوان ابراہیم مریح کو 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔چار نوجوانوں کے لیے سزا سے پہلے کا آخری سیشن 15 نومبر کو حیفا کی مرکزی عدالت میں منعقد ہوا تھا اور پبلک پراسیکیوشن نے ان نوجوانوں کے خلاف 7 سے 10 سال کے درمیان اصل قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔دو دیگر نوجوان احمد مریح اور مصطفی عواد کو گھروں میں نظربندی کی سزا سنائی گئی۔گرفتار نوجوانوں سے منسوب سب سے نمایاں الزامات میں قومی اور یہودی مخالف بنیادوں پر جان بوجھ کر دہشت گردی کی کارروائی کرنا تھا۔قابل ذکر ہے کہ قابض پولیس اور شن بیٹ نے غزہ پر جارحیت کے خلاف احتجاجی مظاہروں، مسجد الاقصی پر دھاوا بولنے اور دھاوا بولنے کی کوششوں کے پس منظر میں مقبوضہ علاقوں کے اندر سیکڑوں فلسطینی نوجوانوں کی گرفتاریوں کی مہم چلائی تھی۔