27 بی جے پی قائدین کو پارٹی کی ہدایات

   

نئی دہلی: پیغمبر اسلامﷺ پر گستاخانہ اور متنازعہ تبصرہ کرنے والے بی جے پی ترجمانوں نپور شرما اور نوین کمار جندل پر کارروائی کے بعد پارٹی ایکشن میں نظر آ رہی ہے۔ آئی ٹی ماہرین کی مدد سے بی جے پی نے گزشتہ 8 سال کے دوران یعنی ستمبر 2014 سے 3 مئی 2022 تک اپنے قائدین کے بیانات کی جانچ پڑتال کی ہے۔پارٹی کی جانچ میں قائدین کے تقریباً 5200 بیانات غیرضروری پائے گئے۔ ان میں سے 2700 بیانات کے الفاظ حساس پائے گئے اور 38 قائدین کے بیانات کو مذہبی عقائد کو ٹھیس پہنچانے کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے بی جے پی نے اپنے 27 قائدین کو ہدایات جاری کی ہیں۔ جو بی جے پی قائدین نفرت انگیز بیان دیتے ہیں ان میں اننت کمار ہیگڈے، شوبھا کرندلاجے، گری راج سنگھ، تتھاگتا رائے، پرتاپ سنہا، ونے کٹیار، مہیش شرما، ٹی راجہ سنگھ، وکرم سنگھ سائنی، ساکشی مہاراج، سنگیت سوم وغیرہ شامل ہیں۔ پیغمبر اسلامﷺ کے تعلق سے متنازعہ تبصرے کے بعد عرب ممالک میں سوشل میڈیا پر ’بائیکاٹ انڈیا‘ کا رجحان چل رہا ہے۔ کویت میں کچھ سوپر اسٹورس نے ہندوستان میں بنی مصنوعات کی فروخت کرنا بند کر دیا ہے۔کویت کے علاوہ کئی مسلم ممالک بشمول ایران ، پاکستان ، لیبیا ، اردن ، افغانستان نے بھی نپور شرما اور نوین کمارکے بیان کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے۔