40 لاکھ رکنیت سازی کے ساتھ تلنگانہ ملک میں نمبر ون: ریونت ریڈی

   

80 لاکھ ووٹ سے اقتدار ممکن، محنت کرنے والے کارکنوں کو ٹکٹ کا وعدہ
حیدرآباد۔4۔ مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے دعویٰ کیا کہ 40 لاکھ ڈیجیٹل رکنیت سازی کے ذریعہ تلنگانہ ملک میں نمبر ون پوزیشن حاصل کرچکی ہے۔ ریاست میں 50 لاکھ رکنیت سازی کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے۔ گاندھی بھون میں پارٹی رکنیت سازی کے مسئلہ پر کوآرڈینیٹرس اور سینئر قائدین کے ساتھ ریونت ریڈی نے اجلاس منعقد کیا۔ اے آئی سی سی سکریٹری بوس راجو کے علاوہ مہیش کمار گوڑ ، انجن کمار یادو اور ہر ضلع کے کوآرڈینیٹر نے شرکت کی اور رکنیت سازی کے موقف سے واقف کرایا۔ ریونت ریڈی نے بتایا کہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے تلنگانہ کیلئے 30 لاکھ رکنیت سازی کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن 40 لاکھ کی تکمیل ہوچکی ہے۔ ملک کی کسی بھی ریاست میں اس قدر رکنیت سازی نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں رکنیت سازی کو 50 لاکھ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ میں 80 لاکھ ووٹ حاصل کرتے ہوئے پارٹی برسر اقتدار آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 40 لاکھ ارکان صرف ایک اضافی ووٹ کو یقینی بنائیں تو پارٹی 80 لاکھ ووٹ حاصل کرتے ہوئے برسر اقتدار آسکتی ہے۔ رکنیت سازی پر دو لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جارہا ہے ۔ پارٹی نے انشورنس معاملات کی یکسوئی کیلئے کال سنٹر قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کانگریس کی مقبولیت میں اضافہ سے پریشان ہیں اور مدد کیلئے پرشانت کشور کو طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے پاس ایک پرشانت کشور ہے تو کانگریس کے پاس 40 لاکھ اے کے 47 کی طرح کارکن موجود ہیں۔ کانگریس برسر اقتدار آنے پر فلاحی اسکیمات کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔ تلنگانہ عوام کانگریس کے ساتھ ہیں اور قائدین کو متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منچریال میں ریکارڈ رکنیت سازی کی گئی ۔ پارلیمانی حلقہ نلگنڈہ رکنیت سازی میں ملک میں ٹاپ پوزیشن پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ محنت کرنے والے کارکنوں کو مناسب مقام دیا جائے گا اور محنت کرنے والوں کو پارٹی ٹکٹ یقینی ہے۔ ایسے کارکنوں کو کسی پیروی کے بغیر ٹکٹ دینا میری ذمہ داری ہوگی۔ کام سے فرار اختیار کرنے والوں کو ٹکٹ اور عہدے حاصل نہیں ہوں گے۔ اس مسئلہ پر میں سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے بات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹ کے اعلان سے قبل ہائی کمان پردیش کانگریس کی رائے حاصل کرتا ہے ، لہذا ٹکٹ کے خواہشمندوں کو چوکس رہنا چاہئے ۔ انہوں نے حیدرآباد اور سکندرآباد پارلیمانی حلقوں کے کوآرڈینیٹرس کو رکنیت سازی پر توجہ دینے کی ہدایت دی۔ ر