تلنگانہ میں 90 فیصد کمزور طبقات، طبقاتی سروے کا کامیاب انعقاد، تلنگانہ کے اثاثہ جات پر کمزور طبقات کی حصہ داری کم
تحفظات کی 50 فیصد حد ختم کرنا ضروری، قومی سطح پر طبقاتی سروے کی تجویز، احمد آباد میں راہول گاندھی کا خطاب
حیدرآباد۔/9 اپریل، ( سیاست نیوز) لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے تلنگانہ میں 42 فیصد بی سی تحفظات سے متعلق بل پر مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت تنقید کی اور سوال کیا کہ ریونت ریڈی حکومت نے جو بل روانہ کیا ہے اس کی منظوری سے انکار کیوں۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے احمدآباد میں منعقدہ اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر پیش کی گئی قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ ملک میں اہم مسائل کے حل کیلئے قومی سطح پر ایکسرے کی ضرورت ہے۔ طبقاتی سروے کے ذریعہ تمام طبقات کی حقیقی صورتحال کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ دلت اور آدی واسی طبقات کے مسائل پر کانگریس پارٹی نے توجہ مرکوز کی ہے۔ ان طبقات سے انصاف آخر کب ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت دلتوں اور آدی واسی طبقہ کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ میرے مرنے کے بعد عوام میرے بارے میں کیا کہیں گے وہ سوال غیر ضروری ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ جس کام کا میں نے بیڑہ اٹھایا ہے اسے مکمل کروں اور اس کے بعد عوام مجھے بھول بھی جائیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ تلنگانہ میں طبقاتی سروے اور پھر 42 فیصد بی سی تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے 42 فیصد بی سی تحفظات کا بل مرکزی حکومت کو روانہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت اس بل پر کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کامیابی کے ساتھ طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا اور سروے کی بنیاد پر بی سی تحفظات میں اضافہ کی مساعی کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر بی سی طبقات کی آبادی کا پتہ چلانے کیلئے طبقاتی سروے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ نے طبقاتی سروے کے ذریعہ ملک کو نئی روشنی دکھائی ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو انصاف فراہم کرنے کیلئے ملک میں تحفظات پر موجود 50 فیصد کی حد کو ختم کیا جائے گا۔ تلنگانہ میں 90 فیصد بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی طبقات ہیں لیکن تلنگانہ کے اثاثہ جات میں بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی حصہ داری کم ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مذکورہ طبقات کی آبادی کے اعتبار سے اثاثہ جات میں حصہ داری ہونی چاہیئے۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی قومی عوامی اداروں کو یکے بعد دیگرے فروخت کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے اس سلسلہ میں ایر پورٹ، مائنس، سمنٹ اور اسٹیل کمپنیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ حکومت سے قربت رکھنے والے دو صنعتی گھرانوں کو قومی ادارے حوالے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹرا میں بدعنوانیوں کے ذریعہ بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی پر دستور کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 24 گھنٹے او بی سی اور آدی واسیوں کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن ان طبقات کی ترقی اور بھلائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بی جے پی حکومت نے ایس سی، ایس ٹی سب پلان کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ طبقاتی سروے کے ذریعہ ملک میں او بی سی، دلت اور اقلیتوں کی آبادی کا پتہ چلایا جاسکتا ہے لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ قومی سطح پر طبقاتی سروے کے اہتمام تک وہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تحفظات کی 50 فیصد حد کو ختم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے۔1