محمد علی شبیر کا الزام، کونسل اور بلدی انتخابات پر کے سی آر کی نظریں
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کے اعلان کے ذریعہ چیف منسٹر بیروزگار نوجوانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ گریجویٹ زمرہ کی کونسل کی دو نشستوں کے انتخابات اور کھمم اور ورنگل بلدی انتخابات کے پیش نظر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے یہ اعلان کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں چیف سکریٹری کو تمام محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ چیف منسٹر کا یہ بیان گزشتہ کئی برسوں سے ملازمت کے انتظار میں لاکھوں بیروزگار نوجوانوں کو دھوکہ دینے کی ایک کوشش ہے۔ 2014 ء میں برسر اقتدار آنے کے بعد چیف منسٹر نے ہر سال ایک لاکھ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ گزشتہ 7 برسوں میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ چیف منسٹر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ محکمہ میں مخلوعہ جائیدادوں سے ناواقف ہیں۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن نے 10 ڈسمبر کو گورنر کو پیش کردہ سالانہ رپورٹ میں 39952 جائیدادوں پر تقررات کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سات برسوں میں محض 39,000 تقررات کئے گئے جبکہ ہر سال ایک لاکھ تقررات کا وعدہ تھا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ہر محکمہ کی تفصیلات چیف منسٹر کے پاس موجود ہیں۔ گزشتہ سات برسوں میں ایک لاکھ ملازمین وظیفہ پر سبکدوش ہوئے اور ریاست میں دو لاکھ سے زائد جائیدادیں مختلف محکمہ جات میں مخلوعہ ہیں۔ چیف سکریٹری کے پاس یہ اعداد و شمار پہلے سے موجود ہیں ، باوجود اس کے دوبارہ تفصیلات حاصل کرنا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50,000 تقررات کا اعلان کونسل اور بلدی انتخابات میں فائدہ حاصل کرنے کا ایک نیا حربہ ہے تاکہ ناراض بیروزگار نوجوانوں کے ووٹ حاصل کئے جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ غیر زرعی جائیدادوں کے رجسٹریشن کے سلسلہ میں حکومت نے کابینی سب کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ گزشتہ تین ماہ سے رجسٹریشن پر پابندی کیوں عائد کی گئی تھی۔ رہنمایانہ خطوط طئے کرنے کیلئے سب کمیٹی تین ماہ قبل قائم کی جانی چاہئے تھی۔
