ملک کے8 بڑے شہروں سمیت 24 ریاستوں کے لوگ شکار‘ایک شخص گرفتار،کانگریس کا حکومت سے استفسار
نئی دہلی: تلنگانہ میں سائبرآباد پولیس نے ڈیٹا چوری کرنے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ سائبرآباد پولیس کو اس سے 66.9 کروڑ لوگوں اور فرموں کا ڈیٹا ملا ہے۔ یہ ڈیٹا ملک کی 24 ریاستوں اور 8 میٹروپولیٹن شہروں کے 104 زمروں سے تعلق رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ شخص اس نجی اور خفیہ ڈیٹا کو غیر قانونی طریقے سے حاصل کرتا تھا، جس کے بعد اسے فروخت کر دیتا تھا۔ اس سے بائجوس اور ویدانتو کے طلباء کا ڈیٹا بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 8 بڑے شہروں میں کیب استعمال کرنے والے 1.84 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا بھی اس شخص کے پاس موجود تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں اس شخص کے پاس 6 شہروں اور گجرات کے 4.5 لاکھ ملازمین کا ڈیٹا بھی موجود تھا۔ بتایا جا رہا ہیکہ ملزم سے کئی بڑی فرموں کا ڈیٹا برآمد ہوا ہے۔ ان میں جی ایس ٹی، آر ٹی او، ایمیزون، نیٹ فلکس، یوٹیوب، پے ٹی ایم، فون پے، بگ باسکٹ، بک مائی شو، انسٹاگرام، زوماٹو، پالیسی بازار، اپ اسٹاک جیسی کئی بڑی کمپنیوں کے نام شامل ہیں۔سائبرآباد پولیس نے بتایا کہ کئی لوگ بشمول ڈیفنس کے لوگ، سرکاری ملازمین، پین کارڈ ہولڈر، نویں۔ دسویں۔گیارہویں۔ بارہویں کے طلباء، بزرگ شہری، دہلی کے بجلی صارفین، ڈی میٹ اکاؤنٹس چلانے والے بہت سے لوگوں کے موبائل نمبر کے علاوہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز کا ڈیٹا بھی برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت ونے بھردواج کے طور پر کی گئی ہے۔ ملزم ہریانہ کے فرید آباد سے ’انسپائر ویبز‘ نامی ویب سائٹ کے ذریعے اپنا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ملزم کلاؤڈ ڈرائیو لنکس کے ذریعے اپنے گاہکوں کو ڈیٹا فروخت کرتا تھا۔ اس نے یہ ڈیٹا عامر سہیل اور مدن گوپال سے حاصل کیا تھا۔گرفتاری کی اطلاع دیتے ہوئے پولیس نے کہا کہ ملزم سے نیٹ کے طلباء کا ڈیٹا بھی برآمد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ملزم کے دو موبائل اور دو لیپ ٹاپ قبضے میں لے لیے ہیں۔ملک کے کروڑوں شہریوں کا ڈیٹا بڑے پیمانے پر چوری کرنے والے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہونے اور ایک ملزم کو گرفتار کیے جانے کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کو تنقیدکا نشانہ بنایا ۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری انچارج شعبہ مواصلات جے رام رمیش نے کہا کہ ملک کے 67 کروڑ لوگوں کا ڈیٹا آخر کس طرح چوری ہو گیا؟ حکومت کو اس پر وضاحت پیش کرنی چاہئے۔