جنگاؤں اور تھرور میں لاٹری سے کانگریس کو کامیابی، ابراہیم پٹنم اور خانہ پور میں انتخابی عمل پر تنازعہ
حیدرآباد 17 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 116 میونسپلٹیز کے چیرپرسن اور وائس چیر پرسن کے عہدوں پر انتخاب مکمل ہوگیا جبکہ 11 میونسپلٹیز کے لئے الیکشن کمیشن نے آج شیڈول مقرر کیا تھا۔ مختلف وجوہات کے سبب 11 میونسپلٹیز میں چیرپرسن اور وائس چیرپرسن کے عہدوں پر انتخاب عمل میں نہیں آسکا۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر آج 11 میونسپلٹیز میں انتخابی عمل شروع ہوا لیکن 8 میونسپلٹیز میں انتخاب کا مرحلہ مکمل ہوا جبکہ 3 میونسپلٹیز کے انتخابی مرحلہ کو ہائیکورٹ کے احکامات اور دیگر تکنیکی وجوہات کے سبب ملتوی کرنا پڑا۔ جن 8 میونسپلٹیز میں چیرپرسن اور وائس چیرپرسن کا الیکشن ہوا اُن میں 7 پر کانگریس کے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ بی آر ایس کو اندریشم میونسپلٹی میں کامیابی ملی۔ جن 3 میونسپلٹیز میں انتخابی مرحلہ کو ملتوی کیا گیا اُن میں ابراہیم پٹنم، کیاتن پلی اور خانہ پور میونسپلٹیز شامل ہیں۔ الیکشن آفیسرس نے انتخابی عمل کا نوٹیفکیشن عنقریب جاری کرنے کا تیقن دیا ہے۔ واضح رہے کہ ابراہیم پٹنم میونسپلٹی میں چیرپرسن کے عہدہ پر بی آر ایس امیدوار سدرشن ریڈی کا انتخاب عمل میں آیا لیکن تلنگانہ ہائیکورٹ نے انتخاب پر حکم التواء جاری کردیا جس کے نتیجہ میں الیکشن پروسیس کو ملتوی کیا گیا۔ متحدہ ورنگل ضلع میں کانگریس اور بی آر ایس کی زبردست سرگرمیوں کے دوران چیرپرسن اور وائس چیرپرسن کے عہدوں پر انتخاب عمل میں آیا۔ جنگاؤں اور تھرور میونسپلٹیز پر کانگریس کے امیدواروں نے دونوں عہدوں پر کامیابی حاصل کی۔ دونوں میونسپلٹیز میں بی آر ایس اور کانگریس کے ارکان کی تعداد مساوی تھی جس کے نتیجہ میں لاٹری کے ذریعہ چیرپرسن اور وائس چیرپرسن کا انتخاب کیا گیا۔ جنگاؤں میں 30 وارڈس ہیں، بی آر ایس کے 13 ارکان منتخب ہوئے جبکہ 2 آزاد امیدواروں نے تائید کا اعلان کیا۔ پارٹی کے رکن اسمبلی پی راجیشور ریڈی ایکس افیشیو ممبر کی حیثیت سے ووٹ کا حق رکھتے ہیں، جس سے مجموعی تعداد 16 ہوگئی۔ کانگریس اور سی پی آئی کے جملہ 13 ارکان ہیں۔ 2 آزاد امیدواروں نے کانگریس کی تائید کی اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کرن کمار ریڈی کے بحیثیت ایکس افیشیو ممبر ووٹ سے جملہ ووٹ 16 ہوگئے۔ مساوی ووٹوں کو دیکھتے ہوئے الیکشن آفیسر نے لاٹری کے ذریعہ انتخاب کا فیصلہ کیا۔ تھرور میونسپلٹی میں جملہ 16 وارڈ ہیں جس میں بی آر ایس کے 9 اور کانگریس کے 7 ارکان منتخب ہوئے۔ پالاکرتی کے رکن اسمبلی یشسنوی ریڈی اور ورنگل کے رکن پارلیمنٹ کڈیم سری ہری نے ایکس افیشیو ممبر کے طور پر ووٹ دیا جس کے نتیجہ میں کانگریس کے جملہ ووٹرس 9 ہوگئے۔ مساوی ووٹرس کے باعث الیکشن آفیسر نے لاٹری کے ذریعہ چیرپرسن کا انتخاب کیا۔ لاٹری میں کانگریس کے شراون چیرپرسن منتخب ہوئے۔ ڈورنکل میونسپلٹی میں کانگریس کے امیدوار دونوں عہدوں پر منتخب قرار دیئے گئے۔ کورم کی عدم تکمیل کے سبب کل الیکشن نہیں ہوا تھا۔ ڈورنکل میونسپلٹی میں جملہ 15 وارڈ ہیں اور کانگریس کو 11 پر کامیابی حاصل ہوئی۔ میونسپل چیرپرسن اور وائس چیرپرسن دونوں عہدوں پر کانگریس کو کامیابی ملی۔ چیرپرسن کے عہدہ پر کے راجکماری کامیاب رہیں۔ ظہیرآباد میونسپلٹی پر بھی کانگریس نے قبضہ کیا۔ 3 آزاد اور مجلس کے 2 ارکان کی تائید سے چیرپرسن کے عہدہ پر محمد یونس کا انتخاب عمل میں آیا۔ سلطان آباد میونسپلٹی کے چیرپرسن کے عہدہ پر کانگریس امیدوار بی کرشنا اور وائس چیرپرسن کے طور پر پشپا لتا کامیاب رہیں۔ کاغذ نگر میونسپلٹی کے چیرپرسن کے عہدہ پر بی جے پی کی مدد سے کانگریس امیدوار شاہین سلطانہ نے کامیابی حاصل کی۔1