تشدد کے اکا دکا معمولی واقعات کو چھوڑ کر رائے دہی پرامن، 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی اور نتائج
حیدرآباد۔ 11 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 116 بلدیات اور 7 میونسپل کارپوریشن کے لئے آج اکا دکا تشدد کے معمولی واقعات کے علاوہ رائے دہی مجموعی طور پر امن رہی ۔ 73.01 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ نظام آباد میں بی جے پی ایم پی ڈی اروند نے انتخابی عملہ اور پولیس کو دھمکی دی۔ مسلم خواتین کے برقعہ نکال کر شناخت کرنے کا مطالبہ کیا۔ کئی اضلاع میں کشیدگی اور جھڑپیں دیکھی گئیں۔ کریم نگر کے علاوہ دیگر چند مقامات پر پولیس نے لاٹھی چارج کرنے کے علاوہ طاقت کا بھی استعمال کیا۔ کئی مقامات پر فرضی ووٹ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی۔ شام 5 بجے پولنگ اختتام کو پہنچی۔ مجموعی طور پر 116 بلدیات کے 2582 وارڈس میں سے 12 وارڈس پر امیدوار بلا مقابلہ شکامیاب ہوچکے تھے جبکہ بی جے پی امیدوار کی خودکشی سے ایک وارڈ کا انتخاب ملتوی کردیا گیا۔ اس طرح 2569 وارڈس کیلئے رائے دہی ہوئی۔ 7 میونسپل کارپوریشنس کے 414 وارڈس میں سے 2 متفقہ رہے جبکہ 412 وارڈس کیلئے رائے دہی منعقد ہوئی۔ 13 فروری کو صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی ہوگی اور نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ گذرتے دن کے ساتھ محبوب آباد، نظام آباد، کریم نگر، میدک اور سنگاریڈی کے بشمول کئی اضلاع میں کشیدگی، نعرے بازی، ہاتھا پائی اور فرضی ووٹ ڈالنے کی کوشش کے واقعات سامنے آئے۔ پولیس نے متعدد مقامات پر فوری مداخلت کرتے ہوئے حالات پر قابو پالیا ہے اور اضافی پولیس فورس کو تعینات کردیا گیا۔ کریم نگر کے 58 ویں ڈیویژن میں پولیس نے بی جے پی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا۔ اس واقعہ میں بی جے پی کے کئی کارکن زخمی ہوئے۔ بی جے پی کے قائدین نے الزام لگایا کہ بی آر ایس کارکن فرضی ووٹنگ میں ملوث تھے اور پولیس نے اندھا دھند کارروائی کی۔ بعد ازاں بی جے پی کارکنوں نے ضلع پریشد دفتر کے سامنے دھرنا دیا جس سے ماحول کشیدہ ہوگیا۔ اسی کارپوریشن کے 34 ویں ڈیویژن میں فرضی ووٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والے نوجوان کو پولیس نے گرفتار کرلیا اور اس کا آدھار کارڈ بھی ضبط کرلیا۔ بی جے پی پولنگ ایجنٹ کی شکایت تھی کہ انہیں پولنگ اسٹیشن سے باہر کردیا گیا۔ کوٹا گلی کے 25 ویں ڈیویژن میں بی جے پی اور کانگریس کارکنوں کے درمیان نعرہ بازی بھی ہوئی۔ محبوب آباد ٹاؤن کے وارڈ 14 اور پولنگ بوتھ 33-32 پر کانگریس اور بی آر ایس کارکنوں کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ کارکنوں نے ایک دوسرے پر حملے کے الزامات عائد کئے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں گروپس کو منتشر کردیا۔ بودھن میں مجلس اور بی آر ایس کارکنوں کے درمیان نعرہ بازی سے کشیدگی پیدا ہوئی۔ تاہم پولیس نے بروقت مداخلت کی۔ ضلع میدک کے نرساپور میونسپلٹی کے وارڈ 15 میں بی جے پی اور بی آر ایس کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا جہاں رائے دہندوں میں پیسے تقسیم کرنے کے الزامات عائد کئے۔ سنگاریڈی کے 28 ویں وارڈ میں ایک شخص کی جانب سے دوبار ووٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ پولنگ حکام نے اعتراض پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کی انگلی پر سیاہی لگاکر اسے واپس بھیج دیا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔ اس طرح نظام آباد کے راکسی پیٹ پولنگ اسٹیشن پر بھی دو افراد کو فرضی ووٹ ڈالنے کی کوشش میں روکا گیا اور مقدمہ درج کیا گیا۔ سیاسی جماعتوں نے بلدی انتخابات کو وقار کا مسئلہ بنالیا تھا اور انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے پر سخت تنقید کی تھی۔ رائے دہندوں نے اپنے فیصلے کو بیالٹ باکس میں محفوظ کردیا۔ 13 فروری کو ووٹوں کی گنتی کے بعد واضح ہوگا کہ بلدیاتی اداروں میں کس جماعت کا پرچم لہرائے گا۔ 2