82 فیصد ہندو آبادی، ہندو راشٹرکہنے کی کیا ضرورت ؟

   

بھوپال: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر کمل ناتھ نے آج کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی ہندو آبادی والے ہندوستان میں 82 فیصد ہندو ہیں اور ایسے میں ہندو راشٹر کہنے کی کیا ضرورت ہے ، یہ توخود اعدادوشمار بتاتے ہیں۔ کمل ناتھ نے یہاں ریاستی کانگریس کے دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی ہندو آبادی اپنے ملک میں ہے ، ملک میں 82 فیصد ہندو رہتے ہیں، اب ایسے میں ہندو راشٹر کہنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اس میں کوئی بحث کا مدعا نہیں ہے ، یہ تو خود اعداد و شماربتاتے ہیں۔اس دوران کمل ناتھ نے قبائلی آبادی کے ذریعے ریاستی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی قبائلی ریاست ہونے کے باوجود مدھیہ پردیش میں کس طرح قبائلیوں کا استحصال اور ان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ ایسے کئی واقعات تو ملک و دنیا تک پہنچ بھی نہیں پاتے ۔ سنگرولی میں ایم ایل اے کے بیٹے نے ایک قبائلی پر گولی چلائی۔ حکومت کو ریاست چلانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔کمل ناتھ نے ہندوتوا سے متعلق اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کہا کہ انہوں نے 15 سال پہلے چھندواڑہ میں ریاست کا سب سے بڑا ہنومان مندر بنایا تھا۔ اس وقت الیکشن نہیں تھے ۔