مسلمانوں کی زندگی میں سدھار کیوں نہیں؟ الیکشن آتے ہی مسلمانوں کی یاد، ہزاروں کروڑ آخر کس کی جیب میں گئے؟
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) انتخابات قریب آتے ہی سیاسی پارٹیوں کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی یاد شدت سے آتی ہے ۔ برسر اقتدار پارٹی ہوکہ اپوزیشن ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ مسلمان الیکشن میں اُن کے ساتھ کھڑے ہوں۔ آزادی کے 75 سال گزرنے کے باوجود آج تک بھی مسلمان محض ووٹ بینک کے سوا اپنی طاقت کو منوانے میں ناکام رہے ہیں۔ موقتی طور پر سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کے وعدے کرتی ہیں لیکن الیکشن کے ساتھ ہی نہ صرف وعدوں کو فراموش کردیا جاتا ہے بلکہ مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو کرنے کیلئے بھی تیار نہیں ہوتیں۔ متحدہ آندھراپردیش میں بھلے ہی مسلم اقلیت کو کسی قدر سیاسی طاقت حاصل تھی لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد سے تلنگانہ میں مسلمانوں کا سیاسی موقف بُری طرح متاثر ہوا ہے۔ گزشتہ 9 برسوں میں مسلمانوں نے اِس اُمید سے بی آر ایس اور اُس کے سربراہ کے چندرشیکھر راؤ کی تائید کی تھی کہ وہ اقلیتوں کے بارے میں اپنی محبت اور ہمدردی کو حقیقت میں تبدیل کریں گے لیکن مسلمانوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی صرف وعدوں اور ہمدردی سے ممکن نہیں ہے بلکہ درکار بجٹ کی اجرائی ضروری ہے۔ ریاست کے مجموعی بجٹ کے اعتبار سے اقلیتی بہبود کا بجٹ ہونا چاہئے۔ کے سی آر حکومت گزشتہ 9 برسوں میں اقلیتی بہبود پر 12,0000000000 روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کررہی ہے لیکن مسلمانوں کی حالت جوں کی توں برقرار ہے۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں حکومت کے دعویٰ کرسکے کہ اُس نے مسلمانوں کے غریب و متوسط خاندانوں کی حالت میں سدھار پیدا کیا ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں بجٹ ایک لاکھ کروڑ سے کم تھا لیکن کے سی آر حکومت موجودہ 2 لاکھ 80 ہزار کروڑ کے بجٹ میں 2200 کروڑ مختص کرتے ہوئے یہ دعویٰ کررہی ہے کہ متحدہ آندھراپردیش کے مقابلے زائد رقم مختص کی گئی۔ مجموعی بجٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اقلیتی بہبود کا بجٹ اُن کی آبادی کے تناسب سے مختص نہیں کیا گیا ہے۔ اقلیتوں کی آبادی تلنگانہ میں تقریباً 14 فیصد ہے اور ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علیحدہ تلنگانہ تحریک اور پھر دو اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی مکمل تائید کے عوض کم از کم آخری بجٹ میں آبادی کے اعتبار سے فنڈس مختص کئے جاتے لیکن مسلمانوں کے حصے میں وعدوں اور تیقنات کے سوا کچھ نہیں رہا۔ صورتحال یہاں تک پہونچ گئی کہ 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل کے بارے میں سوال کرنے والوں پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 9 برسوں میں 12 ہزار کروڑ خرچ کئے گئے تو پھر مسلمانوں کی حالت میں سدھار کیوں نہیں ہوا۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اقلیتی بہبود کی روایتی اسکیمات کے علاوہ معاشی ترقی سے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے۔ حکومت ہر سال اقلیتی بہبود کیلئے مختص کردہ بجٹ کو مکمل طور پر جاری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انتخابات سے قبل اقلیتوں کی ترقی پر 12 ہزار کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ اِس اعتبار سے بھی مضحکہ خیز دکھائی دے رہا ہے کہ بیشتر اسکیمات انتخابات سے عین قبل مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے عمل کی جارہی ہیں۔ غریب مسلمانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے اقلیتی فینانس کارپوریشن سے بینک سے مربوط سبسیڈی اسکیم پر 7 برسوں میں عمل نہیں کیا گیا اور الیکشن سے عین قبل صد فیصد سبسیڈی کے نام پر ایک لاکھ روپئے کی امداد دی جارہی ہے اور یہ امداد بھی محدود تعداد کیلئے ہے ۔ پہلے اور دوسرے مرحلہ میں جملہ 20 ہزار افراد کو ایک لاکھ روپئے کے امدادی چیکس جاری کئے گئے لیکن شکایت ملی ہے کہ اِن میں سے زیادہ تر برسر اقتدار اور اُس کی حلیف پارٹی کے کارکن اور قریبی افراد ہیں لہذا سبسیڈی اسکیم سے حقیقی طور پر غریب مسلمانوں کو فائدہ نہیں پہونچا۔ حکومت شادی مبارک اسکیم کے تحت 9 برسوں میں 2 لاکھ 68 ہزار غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے 2258 کروڑ کی اجرائی کا دعویٰ کررہی ہے لیکن یہ رقم کسی بھی خاندان کی مستقل ترقی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ شادی کے موقع پر دی جانے والی رقم موقتی کارآمد ثابت ہوتی ہے لیکن خاندان کی حالت سدھارنے میں یہ اسکیم مددگار ثابت نہیں ہوگی۔ اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالرشپ کے بقایہ جات کئی برسوں سے ہیں۔ اسکالرشپ اور فیس باز ادائیگی کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں غریب اور متوسط خاندانوں پر اضافی بوجھ عائد ہوا کیوں کہ اُنھیں بچوں کی فیس ادا کرنے قرض لینے پر مجبور ہونا پڑا۔ فیس باز ادائیگی کے تقریباً 4 ہزار کروڑ کے بقایہ جات ہیں اور عدم ادائیگی کے نتیجہ میں تقریباً 50 اقلیتی انجینئرنگ کالجس بند ہوچکے ہیں۔ دیگر کئی اقلیتی پروفیشنل کالجس بھی فیس باز ادائیگی کے بحران کے نتیجہ میں بند کردیئے گئے۔ مسلمانوں کا حکومت سے یہ سوال ہے کہ 12 ہزار کروڑ کا خرچ آخر کہاں ہوا جس کا مکمل حساب پیش کیا جائے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اقلیتی بہبود کے نام پر یہ بجٹ سیاستدانوں اور اُن کے قریبی افراد کی جیب میں گیا ہو۔