دیوالیہ پن کا شکار کمپنی کو 6 ہزار کروڑ کا کام کیوں دیا گیا؟ حکومت وضاحت کرے
حیدرآباد۔ 4 فروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا ہے کہ KLSR انفرا بدعنوانی معاملے میں چیف منسٹر ریونت ریڈی کی بے نامی کمپنی ملوث ہے۔ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ا یس اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرتے ہوئے مسلسل حکومت کی ناکامیوں اور بدعنوانیوں کو بے نقاب کررہی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ 10 دن کے دوران پہلے ہریش راؤ، اس کے بعد مجھے (کے ٹی آر) اس کے بعد راجیہ سبھا کے سابق رکن سنتوش کمار اور پھر پارٹی کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کو ایس آئی ٹی کی جانب سے پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا گیا جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے، اسی دوران پارٹی نے اس معاملے کی کھوج شروع کی تو کئی چونکادینے والے حقائق سامنے آئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ KLSR انفرا دراصل چیف منسٹر ریونت ریڈی کی بے نامی کمپنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریونت ریڈی جس لینڈ کروزر (TS07FF0009) کا استعمال کررہے ہیں وہ گاڑی KLSR انفرا کے نام پر رجسٹرڈ ہے جس کی مالیت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے ہے۔ کے ٹی آر نے ریونت ریڈی کو چیف منسٹر نہیں بلکہ بے نامی چیف منسٹر قرار دیا۔ ان بدعنوانیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے بی آر ایس قائدین کو نوٹس جاری کی گئی۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے الزام عائد کیا کہ KLSR انفرا سے ریونت ریڈی کی بھوپال انفرا کمپنی میں بھاری رقومات منتقل ہوئیں اور ریئل اسٹیٹ سودوں میں بھی اسی کمپنی کا کردار بتایا جارہا ہے۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ 2018 میں ہی اس کمپنی پر انکم ٹیکس کے چھاپے پڑچکے ہیں اور کمپنی 2023 میں دیوالیہ ہوگئی تھی یہاں تک کہ ملازمین کو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایسی دیوالیہ پن کا شکار کمپنی کو 6 ہزار کروڑ روپے کے کام کیسے دیئے گئے؟ کے ٹی آر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس کمپنی کو ٹنڈر کیوں دیا گیا اور 23 جنوری کو تحقیقاتی ایجنسیوں کو اسی کمپنی کی بے ضابطگیوں کی جانچ کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ کے ٹی آر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر وضاحت کی جائے کہ دیوالیہ قرار دی جاچکی کمپنی کو 6 ہزار کروڑ روپے کا کام کس بنیاد پر دیا گیا اور اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ 2