حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : کبھی گندے پانی کے ایک حوض کی طرح دکھائی دینے والی ، رامما کنٹہ جھیل جو گچی باولی میں واقع ہے کو جلد ہی بہتر بنایا جائے گا ۔ قبل ازیں یہ جھیل خشک ہورہی تھی اور زمینات پر قبضے کرنے والوں کی نظر اس جھیل پر پڑ رہی تھی ۔ حالیہ بارش کے ساتھ ایک عرصہ دراز سے نظر انداز کی گئی اس جھیل کی حالت اب بہتر ہو کر اس کی شان پھر بحال ہوگی کیوں کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹورازم اینڈ ہاسپٹلٹی مینجمنٹ (NITHM) کی جانب سے اسے فروغ دینے اور اس کے تحفظ کے سلسلہ میں پہل کی جارہی ہے ۔ برسوں نظر انداز کردینے پر یہ جھیل مچھروں کی افزائش کی جگہ بن گئی اور اس کے اطراف کے علاقوں سے گندہ پانی راست اس جھیل میں آنے کی وجہ یہ آلودہ ہوگئی ہے ۔ یہ جھیل این آئی ٹی ایچ ایم کیمپس پر سب کی نگاہوں کا مرکز ہوگی ۔ NITHM کے ڈائرکٹر ڈاکٹر چنم ریڈی نے کہا کہ گذشتہ چند برسوں میں یہ جھیل پوری طرح آلودہ ہوگئی اور گراونڈ واٹر اس جھیل میں آنا رک گیا تھا لیکن جاریہ مانسون کی شدید بارش سے یہ جھیل بارش کے پانی سے بھر گئی ہے جس سے اس جھیل میں گراونڈ واٹر میں بھی قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے اس جھیل کے اطراف مختلف اقسام کے پودے لگاتے ہوئے اسے سرسبز و شاداب اور خوشگوار بنانے کے لیے کام کیا جارہا ہے ۔ جھیل کو پرکشش بنانے کے لیے ہم واک پاتھ بھی بنا رہے ہیں اور اس جھیل کو خوبصورت بنانے کا کام بھی کیا جائے گا ۔ رامما کنٹہ جھیل NITHM کیمپس کی مین بلڈنگ سے متصل چار ایکر پر محیط جھیل ہے ۔ نیز اس جھیل میں جلد ہی بوٹنگ اور دوسری سہولتیں بھی فراہم ہوں گی ۔ کیوں کہ انسٹی ٹیوٹ مینجمنٹ کی جانب سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے اشتراک سے سیوریج لائن کے رخ کو موڑنے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے تاکہ جھیل آلودگی کا شکار نہ ہونے پائے ۔ اسے خوبصورت بنانے کا کام جی ایچ ایم سی کی مدد سے 32 لاکھ روپئے مصارف سے کیا جارہا ہے ۔ ڈائرکٹر نے کہا کہ اس جھیل کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کئے جائیں گے اور اس جھیل کے پاس 20 اقسام کے پودوں کے ساتھ ایک خصوصی گارڈن بنایا جائے گا جس میں منفرد انداز کی لائیٹنگ ہوگی ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ یہاں ہر ایک کو واکنگ اور جاگنگ میں ایک خوشگوار احساس ہو ۔۔
