بودھن میں فیکٹری کے روبرو احتجاج ، کانگریس ، بی جے پی اور عاپ قائدین کا اظہار یگانگت
بودھن : /22 جنو ری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نظام شوگر فیکٹری شکر نگر بودھن بند ہوجانے سے متاثر ہوئے این ایس ایف کے سابقہ ملازمین کی کثیر تعداد فیاکٹری کے مین گیٹ کے سامنے جمع ہوکر انہیں بقایاجات کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج منظم کیا اور مقامی ایم ایل اے بودھن شکیل عامر ، ایم ایل سی نظام آباد کے کویتا کے علاوہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف نعرے بلند کئے ۔ بطور اظہاریگانگت کانگریس پارٹی کے قائدین نوین ، شیخ امین الدین ، بھاسکر ، فیاض الدین کے علاوہ عام ادمی پارٹی کے مقامی صدر جنید احمد خلیل ، بی جے پی کے چاری وغیرہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر کانگریس پارٹی کے قائد نوین نے مخاطب کرتے ہوئے کہا بقایا جاتا کے انتظار میں تقریباً 35 ملازمین فو ت ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی ایم ایل اے کویتا میڈم نے گزشتہ ہوئے اسمبلی کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے خانگی زیر انتظام چلنے والی شوگر فیاکٹری کو حکومت کی تحویل میں لے کر چلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اپنے وعدے کے برعکس فیاکٹری کو ہی بند کردیا ۔ عام آدمی پارٹی کے جنید احمد نے کہا چیف منسٹر تلنگانہ عوام کو گمراہ کرنے آنکھوں کی روشنی پروگرام شروع کرکے تلنگانہ کی عوام کے اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بی جے پی کے چاری نے کہا این ایس ایف شکر نگر کے ملازمین نے حصول تلنگانہ کی جدوجہد میں اس لئے سرگرمی سے حصہ لیا تھا تاکہ علحدہ ریاست کے قیام کے بعد این ایس ایف کو تلنگانہ سرکار حکومت کی تحویل میں لے لے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ اسمبلی کے انتخابات میں ٹی آر ایس سے بی آر ایس بننے والی سیاسی جماعت کو عوام گھر کا راستہ دکھائے گی ۔ بعد ازاں احتجاجیوں کو پولیس نے بودھن پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔