TET 2026 امتحانات سرکاری ٹیچرس ذہنی دباؤ کا شکار

   

3 تا 20 جنوری امتحانات ، ہال ٹکٹس کی اجرائی ، تمام تیاریاں مکمل
حیدرآباد 30 دسمبر ( سیاست نیوز) : تلنگانہ میں سرویس ( خدمات ) انجام دینے والے سرکاری اساتذہ اس وقت ٹیچر اہلیت ٹسٹ (TET) کے شدید دباؤ میں مبتلا ہیں ۔ سرویس ایجوکیٹرز کیلئے لازمی قرار دی گئی اس اہلیت نے اساتذہ کو وقت کے خلاف دوڑ میں لاکھڑا کیا ہے ۔ ٹیچرس کتابوں سے جوجھ رہے ہیں ۔ رخصت لے کر آن لائن کوچنگ کررہے ہیں اور چند ٹیچرس اپنے بچوں اور رشتہ داروں سے ریاضی جیسے مضامین میں شکوک دور کرارہے ہیں ۔ ستمبر میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق 2012 سے قبل تعینات تمام اساتذہ ( ڈی ایس سی کے ذریعہ منتخب اساتذہ سمیت ) کیلئے TET میں کوالیفائی کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ عدالت نے اس مقصد کیلئے دو سال کی رعایتی مدت دی اور واضح کیا کہ اہلیت حاصل نہ کرنے پر ملازمت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ تاہم پانچ سال سے کم سرویس والے اساتذہ کو اس اصول سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق صرف گریٹر حیدرآباد کے 2,444 سرکاری پرائمری و اپرپرائمری اسکولس میں 15,072 اساتذہ برسرکار ہیں ۔ ان میں تقریبا 60 فیصد نے 20 سے 25 سال قبل تدریسی پیشہ اختیار کیا تھا ۔ 25 فیصد ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں جب کہ ماباقی 35 فیصد کی عمر 55 سال سے کم ہے ۔ طویل عرصہ بعد امتحانی نظام سے گذرنے کی وجہ سے ان اساتذہ کو مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ ریاست میں ٹیٹ I اور ٹیٹ II کے 19 اضلاع میں 3 تا 20 جنوری امتحانات منعقد کئے جارہے ہیں ۔ یہ امتحانات کمپیوٹر بیسڈ ٹسٹ ( CBT ) ہوں گے جس کیلئے کئی اساتذہ کو نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ ہونا پڑرہا ہے ۔ اسکول اسسٹنٹ خاص طور پر سائنس مضامین کے اساتذہ کو شکایت ہے کہ انہیں اپنے مضمون کے ساتھ ریاضی جیسے اضافی مضمون کی تیاری کرنی پڑرہی ہے جس سے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امتحان کے دن بڑی تعداد میں ٹیچرس ٹیٹ میں شریک ہوئے تو اسکولس میں تدریسی عمل متاثر ہوگا اور طلبہ بغیر اساتذہ کے رہ جائیں گے ۔ ٹیچرس تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امتحان کے دن اسکولس کو تعطیلات کا اعلان کریں یا متبادل انتظامات کریں تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو ۔۔ 2