وزیر فینانس پیاز نہیں کھاتیں، دودھ، دہی اور آٹے کی مہنگائی کا کیا جواب ہے؟

   


نئی دہلی : پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس جاری ہے اور چین کے معاملے پر دونوں ایوانوں میں مسلسل ہنگامہ آرائی جاری ہے۔ ادھر راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا نے مہنگائی کے معاملے پر مرکزی حکومت کو گھیراہے۔ سال 2014 میں پارلیمنٹ میں نریندر مودی کی حکومت بننے کے بعد اب تک کے اعداد و شمار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سے اب تک مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رمن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر فینانس نے کہا تھا کہ وہ پیاز نہیں کھاتیں، اس لیے انہیں پیاز کی قیمت نہیں معلوم۔ دودھ، دہی اور آٹے کی قیمت کے بارے میں وزیر خزانہ کیا کہیں گی؟ مہنگائی کی صورتحال دیکھیں، 2014 میں جب مودی حکومت بنی تو پٹرول 55 روپئے فی لیٹر فروخت ہوتا تھا اور آج پٹرول 100 روپئے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے۔راجیہ سبھا میں اعداد و شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت بننے سے پہلے ڈیزل 45 روپئے فی لیٹر فروخت ہوتا تھا جو آج 90 روپئے فی لیٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے۔ مارکیٹ میں گیس سلنڈر 400 روپئے میں ملتا تھا، آج وہ گیس سلنڈر 1100 روپئے کا ہو گیا ہے۔ دودھ کی قیمت 36 روپئے فی لیٹر تھی لیکن آج وہی دودھ 60 روپئے فی لیٹر ہو گیا ہے۔نریندر مودی حکومت کے قیام سے پہلے سی این جی 40 روپئے فی لیٹر ملتی تھی جو اب 80 روپئے فی یونٹ ہو گئی ہے۔اس کے علاوہ راگھو چڈھا نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب ایوان میں پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ہنگامہ ہوا،تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں پیاز نہیں کھاتیں، تو مجھے قیمتوں کا علم نہیں، لیکن دودھ، دہی اور آٹے کی قیمتوں کا ضرور علم ہے، آج ان تمام چیزوں کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔مرکزی وزیر خزانہ کی بڑھتی ہوئی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی بابت کیا رائے ہے؟