دیگر ریاستوں میں کورونا کیسس میں اضافہ، ٹرین اور بس خدمات میں احتیاطی تدابیر
حیدرآباد: محکمہ صحت نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ تک بیرونی ریاست سفر سے گریز کریں کیونکہ ملک کی کئی ریاستوں میں کورونا کی دوسری لہر نے دستک دے دی ہے۔ تلنگانہ کو کورونا کی دوسری لہر کا خطرہ ہے ، لہذا محکمہ صحت نے عوام کو تعطیلات یا دیگر ضروریات کے سلسلہ میں سفر سے منع کیا ہے ۔ ریلویز اور ایرپورٹ حکام کی جانب سے مسافرین کیلئے احتیاطی تدابیر پر مشتمل گائیڈ لائینس جاری کی جارہی ہے۔ تلنگانہ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن نے اندرون ریاست کے علاوہ دیگر ریاستوں کیلئے بس سرویس کا آغاز کردیا ہے۔ خاص طور پر مہاراشٹرا ، آندھراپردیش اور کرناٹک کیلئے بس سرویس کے آغاز کے نتیجہ میں پڑوسی ریاستوں سے کورونا کیسس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے ۔ حیدرآباد ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر ڈاکٹر جے وینکٹ نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا کی دوسری لہر کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے سفر سے گریز کریں۔ کورونا سے فوری طور پر متاثر ہونے والے افراد جن میں ضعیف العمر افراد اور کمسن بچے شامل ہیں، انہیں زیادہ احتیاط کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سفر کرنے والے افراد یا پھر دیگر ریاستوں سے حیدرآباد پہنچنے والے مسافرین کیلئے کورنٹائن قواعد کو قطعیت دی جارہی ہے۔ زیادہ تر افراد ٹرینوں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں، لہذا ساؤتھ سنٹرل ریلوے کو چوکس کیا گیا ہے ۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 80 فیصد ٹرینیں ساؤتھ سنٹرل ریلوے سے ہوکر گزرتی ہیں کورونا لاک ڈاون کے دوران 10 لاکھ افراد کو آبائی مقامات منتقل کرنے میں ساؤتھ سنٹرل ریلوے کا اہم رول رہا۔ ریلوے حکام نے ہر ٹرین میں صحت و صفائی کے انتظامات کیلئے 8 تا 10 افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا ہے ۔ راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پر مسافرین کیلئے کورونا ٹسٹنگ سنٹر قائم کیا گیا جس کا وزیر صحت ای راجندر نے افتتاح کیا ۔ تمام انٹرنیشنل مسافرین کیلئے آمد سے 96 گھنٹے قبل کی آر ٹی پی سی آر منفی رپورٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے ۔