۔3000 کروڑ کی آمدنی متوقع ، وقف بورڈ کو فوری متحرک ہونے کی ضرورت
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے سرکاری اراضیات کی فروخت کا فیصلہ کیا ہے جس کے پہلے مرحلہ کے تحت آئندہ ماہ حکومت کو 3000 کروڑ کی آمدنی کی توقع ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وباء اور لاک ڈاؤن کے بعد سے تلنگانہ حکومت کی آمدنی پر برا اثر پڑا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں سرکاری خزانہ کو 50 تا 60 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ۔ حکومت کو توقع تھی کہ جاریہ سال حالات معمول پر آجائیں گے لیکن دوسری لہر نے حکومت کی امیدوں پر پانی پھیر دیا جس کے بعد سرکاری اراضیات کی فروخت کے ذریعہ خزانہ کو پُر کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ پہلے مرحلہ میں 15 جولائی تک کوکا پیٹ اور خانم میٹ علاقوں میں 64 ایکر سرکاری اراضی کو فروخت کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جن 13 پلاٹس کو ہراج کرنے کیلئے نشاندہی کی گئی ان میں سے 49 ایکر پر مشتمل 8 پلاٹس حیدرآباد میٹرو پولیٹن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے ہیں جبکہ 15 ایکر پر محیط 5 پلاٹس کی ملکیت تلنگانہ اسٹیٹ انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن کے تحت ہیں۔ توقع ہے کہ 15 جون کو ہراج سے متعلق اعلامیہ جاری کیا جائے گا جبکہ 25 جون کو ہراج سے قبل خواہشمند پارٹیوں کے ساتھ اجلاس منعقد ہوگا۔ ٹنڈرس کے ادخال کی آخری تاریخ 13 جولائی ہوگی اور 15 جولائی کو آکشن کیا جائے گا۔ یہ اراضیات آوٹر رنگ روڈ اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے قریب ہیں۔ اس اراضی پر آئی ٹی دفاتر، رہائشی عمارتیں یا تجارتی اغراض کیلئے کامپلکس تعمیر کئے جاسکتے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چھوٹے پلاٹس کے بجائے ایک ایکر اور 9 ایکر پر مشتمل پلاٹس تیار کئے گئے تاکہ بڑے پراجکٹس قائم کرنے کی خواہشمند کمپنیوں کو سہولت ہو۔ حکومت کو امید ہے کہ آکشن کے پہلے مرحلہ میں بہتر ردعمل حاصل ہوگا کیونکہ ڈیولپرس تنازعات سے پاک اراضیات کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ اراضیات عہدیداروں کے مطابق صد فیصد کلیر ٹائیٹل کی ہیں اور صنعتوں کے قیام کیلئے حکومت کے پاس سنگل ونڈو کلیرنس سسٹم ہے۔ اسی دوران کوکا پیٹ اور خانم میٹ کی اراضیات کے سلسلہ میں تلنگانہ وقف بورڈ کو چوکسی کی ضرورت ہے کیونکہ ان علاقوں میں زیادہ تر اراضی وقف ہے۔ اب جبکہ حکومت نے کوکا پیٹ اور خانم میٹ کی اراضیات کو پلاٹنگ کے ذریعہ فروخت کرنے کی تیاری کرلی ہے لہذا وقف بورڈ کو چاہیئے کہ وہ اراضیات کے سروے نمبرس کے ذریعہ حقیقی موقف کا پتہ چلائیں تاکہ 3000 کروڑ مالیتی اراضیات سے محرومی نہ ہو۔ اگر یہ اراضیات واقعی وقف ہیں تو حکومت کو آکشن کے بعد حاصل ہونے والی رقم وقف بورڈ کو ادا کرنی چاہیئے۔