کوئلہ کی قلت سے برقی پیداوار متاثر ، حکومت متبادل انتظامات میں مصروف
حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کو آئندہ ہفتہ سے برقی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا!کوئلہ کی قلت کے سبب ریاست تلنگانہ کے تھرمل پراجکٹس متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ تلنگانہ اسٹیٹ جینکو کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے ریاست میں موجود کوئلہ کے اسٹاک کا جائزہ لیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہاہے کہ ریاست میں موجود کوئلہ آئندہ ایک ہفتہ کے لئے ہی محدود ہے اور اس ایک ہفتہ کے دوران اگر کوئلہ کی قلت کو دور نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں برقی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تلنگانہ میں مجموعی طور پر یومیہ 125.82ملین یونٹ برقی پیداوار ہوا کرتی ہے اور اس میں 76.10 ملین یونٹ برقی پیداوار تھرمل اسٹیشنس میں ہوا کرتی ہے جو کہ کوئلہ سے برقی پیدا کرتے ہیں۔ریاست میں برقی پیدوار کی نگرانی کرنے والے ادارہ تلنگانہ اسٹیٹ پاؤر جنریشن کارپوریشن لمیٹڈ کے عہدیدارو ںکے مطابق ریاست میں کوئلہ کی قلت کے سبب برقی پیداوار متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کوواقف کروایا جاچکا ہے اور اس بات کو بھی علم میں لایا گیا ہے کہ ریاست میں آئندہ ایک ہفتہ تک تھرمل اسٹیشن کو کارکرد رکھنے کے لئے کوئلہ کے ذخائر موجود ہیں اور اس کے بعد تھرمل اسٹیشن سے برقی پیداوار بری طرح سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھرمیں کوئلہ کی قلت کے سبب برقی بحران کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ان ریاستو ں کو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دی ہے جن ریاستوں میں برقی پیداوار کا انحصار کوئلہ پر ہے ۔ تلنگانہ میں میں مجموعی پیداوار میں زائد از 40 فیصد برقی پیداوار کوئلہ کے ذریعہ یعنی تھرمل پاؤر جنریشن کے ذریعہ مکمل کی جاتی ہے۔ عہدیدارو ںنے بتایا کہ اندرون ایک ہفتہ کوئلہ کی قلت میں کمی لانے کے اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں ریاست بھر میں کئی اضلاع کو برقی قلت اور بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے ٹی ایس جینکو کی جانب سے ممکنہ حد تک پیداوار میں بہتری اور کوئلہ کے ذخائر کو ضرورت کے حساب سے استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں 3000 میگاواٹ کے تھرمل پاؤر جنریشن کی سہولت موجود ہے اور ان تمام مراکز پر برقی پیدوار کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے یومیہ 50 ہزار ٹن کوئلہ درکار ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کیلئے متعدد اقدامات کئے جاتے ہیں۔م
جن میں مختلف ذرائع سے کوئلہ کی خریداری کو ممکن بنایا جاتا رہا ہے لیکن اب کوئلہ کی قلت نے عہدیداروں کی نیند اڑادی ہے اور وہ متبادل انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔م