ممبئی ۔ یکم اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) انڈین کرکٹرس اسو سی ایشن کے سربراہ کو لگتا ہے کہ کووڈ۔19 وبا (کورونا وائرس ) سے نمٹنے کے لیے چل رہے لاک ڈاؤن کے سبب اگر نقصان ہزاروں کروڑوں میں ہوتا ہے تو گھریلو کھلاڑیوں تک کو بھی کٹوتی برداشت کرنی پڑے گی۔کورونا وائرس کی وجہ سے مہاراشٹر میں سبھی سرکاری ملازمین کے ساتھ چیف منسٹر اور ریاستی اراکین اسمبلی و اراکین کی تنخواہ میں کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اب خبر ہے کہ اگر اس مرتبہ کرکٹ کا مہامیلہ یعنی آئی پی ایل منعقد نہیں ہوا تو اس سیزن میں کھیلنے والے ویراٹ کوہلی اور روہت شرما سمیت 189 کھلاڑیوں کی تنخواہ بھی نہیں ملے گی۔ یہ بات آئی پی ایل فرنچائزی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہی ہے۔ دراصل آئی پی ایل ٹورنمنٹ کو فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے اور آگے کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں ہے۔ یہ ٹورنمنٹ اب اس وقت تک منعقد ہونے کا امکان نہیں ہے جب تک کہ بی سی سی آئی سال کے آخر میں اس کے لیے متبادل ونڈو تیار نہیں کر لیتا۔ آئی پی ایل کے لیے کھلاڑیوں کو دی جانے والی تنخواہ کے تعلق سے فرنچائز کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ آئی پی ایل ادائیگی کا طریقہ ایسا ہے کہ ٹورنمنٹ شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے15 فیصد رقم دے دی جاتی ہے، ٹورنمنٹ کے دوران65 فیصد رقم ادا کی جاتی ہے اور باقی 20 فیصد رقم ٹورنمنٹ ختم ہونے کے بعد مقررہ وقت کے اندر دی جاتی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بی سی سی آئی کا اس سلسلے میں خاص گائیڈ لائن ہے اور یقینی طور پرکسی بھی کھلاڑی کو فی الحال کچھ نہیں دیا گیا ہے۔ایک دیگر فرنچائز کے عہدیدار نے کہا کہ کورونا وبا کے لیے کھلاڑیوں کی تنخواہ کا بیمہ نہیں کیا جاتا اس لیے کھلاڑیوں کی ادائیگی کس طرح کی جائے گی۔ انھوں نے پوچھا کہ ہمیں بیمہ کمپنی سے کوئی رقم نہیں ملے گی کیونکہ وبا بیمہ کی شرطوں میں شامل نہیں ہے۔ ہر فرنچائزکی تنخواہ دینے کی رقم 75 سے 85 کروڑ روپے ہے۔ اگر کھیل ہی نہیں ہوتا تو ہم ادائیگی کس طرح کر سکتے ہیں۔ انڈین کرکٹرس اسو سی ایشن کے سربراہ اشوک مہلوترا نے اعتراف کیا کہ آئی پی ایل کے ایک سیزن کے نہیں ہونے کا معاشی اثر بہت بڑا ہوگا۔