آئین کی کاپیوں کیساتھ احتجاج کرنے پر بومئی کی کانگریس پر تنقید

   

نئی دہلی: کرناٹک میں ہاویری لوک سبھا حلقے کے رکن پارلیمنٹ اور ریاست کے سابق وزیر اعلی بسواراج بومئی نے منگل کو کانگریس کی جانب سے آئین کی کاپیاں لے کر پارلیمنٹ میں احتجاج کرنے پر سخت تنقید کی۔ بومئی نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ 50 سال پہلے وہی کانگریس تھی جس نے ایمرجنسی نافذ کی تھی اور جمہوری آزادیوں کو محدود کیا تھا۔ اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی طرف سے ایمرجنسی کا نفاذ ہندوستانی جمہوریت کا ایک سیاہ باب تھا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایمرجنسی لگا کر اختلاف رائے اور انسانی حقوق کو دبایا گیا اور سیاست اور صحافت کی آزادی پر روک لگائی گئیں۔ کانگریس پر اقتدار میں رہنے کے لیے آئین کو مسخ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ ان کے پاس اب آئین کے تحفظ کی وکالت کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں اور پارلیمانی ترامیم جیسے تحفظات نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایسی ایمرجنسی دوبارہ نہیں لگائی جا سکتی۔انہوں نے اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے اور عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کانگریس کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی بنیاد حاصل کرنے کی ایک فضول کوشش ہے ۔