کے سی آر کو مکتوب، تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے کوئی جگہ نہیں
حیدرآباد۔یکم اگست (سیاست نیوز) کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بھٹی وکرمارکا نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے آبائی موضع چنتا مڈکا کی طرح ریاست کے دیگر مواضعات کے عوام کو امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے چنتا مڈکا گاؤں کے ہر گھر کو 10 لاکھ روپئے کی امداد دی ہے۔ چیف منسٹر یہ بھول رہے ہیں کہ وہ کسی ایک گاؤں کے نہیں بلکہ ساری ریاست کے چیف منسٹر ہیں۔ انہیں دیگر گاؤں کے خاندانوں کو بھی اسی طرح امداد دینی چاہئے۔ چیف منسٹر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے تمام خاندانوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ بھٹی وکرمارکا نے یاد دلایا کہ کے سی آر نے حلف لیتے وقت قسم کھائی تھی کہ وہ سماج کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے لیکن وہ حلف کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر کے رویہ سے عوام میں ناراضگی پیدا ہوگی اور یہ ناراضگی تشدد میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ اگر چیف منسٹر شخصی طور پر یہ امداد کرتے تو کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن سرکاری خزانہ سے یہ امداد تقسیم کی گئی جو قابل اعتراض ہے۔ چیف منسٹر نے جو کچھ بھی دیا وہ عوامی رقم ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے صحافیوں کو کالیشورم پراجکٹ کا دورہ کرانے سے متعلق چیف منسٹر کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بارہا مطالبہ کے باوجود پراجکٹ کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر نے تمام ارکان اسمبلی کے رپورٹ حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے بارے میں بی جے پی صدر ڈاکٹر لکشمن کے بیان کو سنجیدہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بی جے پی قائدین بیانات کے ذریعہ پارٹی کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں جبکہ تلنگانہ میں بی جے پی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ پارٹی کے رکن سریدھر بابو نے صحافیوں اور ایڈیٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ پراجکٹ کے دورہ کے موقع پر متاثرین کے مسائل کی سماعت کریں۔