آبادکاری روکنے کیلئے اسرائیل پر دباؤ ڈالا جائے گا:امریکہ

   

واشنگٹن: امریکی کانگریس کے 26ارکان نے امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ 1967 میں قبضہ کیے گئے علاقے اور سیکٹر ای ون میں بستیوں کی تعمیر روک دے۔ عبرانی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق امریکی قانون سازوں نے سینیٹر مارک فوکن کی قیادت میں مغربی کنارے کے دورے کے بعد بلنکن کو ایک کھلا خط لکھا ہے،جس میں فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خط میں یہودی بستیوں کی تعمیر فوری طورپر روکنے کا مطالبہ کیا گیاہے۔کانگریس کے ارکان نے زور دیا کہ مقبوضہ علاقے میں آباد کاری سے دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچے گا اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہوگی۔ دوسری جانب 154 یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکورٹی میں مسجد قصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ درجنوں یہودی ا?باد کاروں، اسرائیلی طلبہ اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت درجنوں انتہا پسندوں نے قبلہ اول میں گھس کراشتعال انگیز چکر لگائے۔ یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر انتہا پسند یہودی شرپسندوں کو مزعومہ ہیکل سلیمانی کے بارے میں مذہبی بریفنگ بھی دی گئی۔