آبی تنازعہ حل کرنے کے سی آر، جگن سے ملاقات نہیں کرینگے

   

مرکز اور ٹریبونل پر انحصار،مرکزی وزیر کی چیف منسٹر سے فون پر بات چیت
حیدرآباد۔ آندھرا پردیش سے جاری آبی تنازعہ کی یکسوئی کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے ہم منصب وائی ایس جگن موہن ریڈی سے ملاقات کے امکانات کو مسترد کردیا۔ سابق میں دونوں چیف منسٹرس کی ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور دونوں نے باہمی مسائل کو مشاورت کے ذریعہ حل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق رائلسیما کے علاقہ میں نئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر نے دونوں ریاستوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا کردی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے رائلسیما لفٹ اریگیشن پراجکٹ کے خلاف مرکزی حکومت سے نمائندگی کی اور نیشنل گرین ٹریبونل نے آندھرا پردیش حکومت کو پراجکٹ کی تعمیر روکنے کی ہدایت دی ہے۔ اسی دوران بعض گوشوں کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ دریائے کرشنا کے پانی پر تنازعہ کی یکسوئی کیلئے دونوں چیف منسٹرس کو ملاقات کرنی چاہیئے۔ جنوری 2020 میں جگن نے پرگتی بھون پہنچ کر کے سی آر سے ملاقات کی تھی۔ آندھرا پردیش حکومت کے مشیر ایس رام کرشنا ریڈی اور آندھرا پردیش کے وزیر پی نانی نے کہا تھا کہ جگن موہن ریڈی آبی تنازعہ پر کے سی آر سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائدین سے مشاورت کے دوران کے سی آر نے واضح کردیا کہ وہ اب جگن سے کوئی ملاقات نہیں کریں گے۔ کرشنا واٹر مینجمنٹ بورڈ اور گرین ٹریبونل کے فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے آندھرا پردیش حکومت کو چاہیئے کہ تعمیری کام فوری روک دے۔ مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت نے کے سی آر سے فون پر بات کی اور رائلسیما لفٹ اریگیشن پراجکٹ کی تعمیر کے بارے میں تفصیلات حاصل کی۔ انہوں نے تیقن دیا کہ بہت جلد کرشنا ریور مینجمنٹ بورڈ کی ایک ٹیم آندھرا پردیش روانہ کی جائے گی جو آبپاشی پراجکٹس کے تعمیری کاموں کا جائزہ لے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد کے سی آر نے جگن موہن ریڈی کو آبی تنازعات کے سلسلہ میں تعاون کا جو پیشکش کیا تھا اس پر عمل کرنے کیلئے جگن حکومت تیار نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ریاستوں کے آبپاشی پراجکٹس پر تنازعہ شدت اختیا کرے گا۔