l دوبارہ کبھی بحال نہیں کیا جاسکے گا ۔ امریکی صدر نے سوشیل میڈیا پر جاری کیا انتباہ
l کسی نفسیاتی مریض کی دھمکی سے ایران ختم نہیں ہونے والا ۔ ایران نے دھمکی کو کیا مسترد
l سکندر نے ایران کو نذر آتش کیا ۔ منگولوں نے تباہی مچائی ۔ ایران آج بھی کھڑا ہے
l لاکھوں ایرانیوں اور میں نے جنگ میں قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ صدر ایران کا اعلان
واشنگٹن 7 اپریل ( ایجنسیز ) ایران کو امریکی جنگ بندی تجاویز قبول کرنے کیلئے دی گئی مہلت سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انتباہ دیا کہ آج رات ایران کی ساری شناخت اور تہذیب ختم ہو کر رہ جائے گی اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جاسکے گا ۔ ٹرمپ نے اپنے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ دھمکی دی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ایسا ہو تاہم انہیں لگتا ہے کہ ایسا ہوگا ۔ ٹرمپ نے اپنی دھمکی کی مزید کوئی وضاحت نہیں کی تاہم انہوں نے پہلے ہی کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے برجس پر بمباری کی جائے گی ۔ پاور پلانٹس پر حملے کئے جائیں گے اور دوسے سیول انفرا اسٹرکچر کو بھی نشانہ بناتے ہوئے ایران کو پتھر کے دور میں ڈھکیل دیا جائے گا ۔ٹرمپ نے اپنی دھمکی کے دوران مزید کہا کہ انہیں یہ بھی امید ہے کہ مہلت ختم ہونے سے قبل کچھ انقلابی تبدیلی بھی آسکتی ہے ۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے پاس امریکہ کی پیش کردہ جنگ بندی تجاویز کو قبول کرنے کیلئے منگل کی نصف شب تک کا وقت ہے ۔ اس کے بعد امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں شروع کردے گا ۔ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جنگ بندی تجاویز کو قبول کرے اور آبنائے ہرمز کو بحال کردے جہاں سے بین الاقوامی بحری جہاز تیل اور دیگر ساز و سامان لے کر گذرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ایک دن قبل ہی کہا تھا کہ جو عارضی جنگ بندی کی تجاویز پیش کی گئی ہیں وہ کافی نہیں ہے ۔ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران نے بھی شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کو ناقابل بیان شدت کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ترکیہ میں ایرانی سفارتخانہ نے ٹرمپ کو نفسیاتی مریض قرار دیا اور کہا کہ سکندر نے ایران کو نذر آتش کردیا تھا ۔ منگولوں نے اس پر تباہی مچائی تھی ۔ تاریخ نے یہ سب کچھ دیکھا ہے ۔ ایران اب بھی موجود ہے ۔ ایک نفسیاتی مریض کی دھمکیوں سے ایران ختم نہیں ہوگا ۔ ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے آج پڑوسی ممالک کو خبردار کیا گیا اور کہا کہ اگر امریکہ اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو پھر ایران کا جواب بھی علاقہ تک محدود نہیں رہے گی ۔ ایرانی عہدیداروں نے مزید کہا کہ نوجوان پاور پلانٹس کے اطراف انسانی زنجیر بنائیں تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے ۔ امریکہ کی جانب سے جو مہلت دی گئی تھی اس کے ختم ہونے کا وقت قریب آتے آتے کشیدگی میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے اور صورتحال انتہائی پیچیدہ بتائی جا رہی ہے ۔ امریکی دھمکیوں کے پیش نظر سارے مشرق وسطی میں حالات کشیدہ دکھائے دے رہے ہیں اور عوام میں ایک طرح سے خوف و دہشت پھیلی ہوئی ہے ۔ اس دوران ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی دھمکیوں پر کہا کہ ایران کے لاکھوں افراد نے اور خود انہوں نے بھی اس جنگ کے دوران اپنی زندگیاں قربان کردینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس دوران ایرانی سفیر برائے پاکستان رضا امیری مخادم نے سوشیل میڈیا پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی کیلئے جو تجاویز پیش کی تھیں وہ ایک اہم اور حساس مرحلہ پر پہونچ رہی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کیلئے امریکہ اور ایران دونوں کو کچھ تجاویز روانہ کی گئی تھیں۔ k