حیدرآباد۔/8 ستمبر، ( سیاست نیوز) مرکزی گنیش وسرجن جلوس کے پیش نظر سٹی پولیس نے جمعہ کو سیکوریٹی کے وسیع تر انتظامات کئے ہیں اور 24000 پولیس عملے کو تعینات کیا گیا ۔ جلوس کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنے پائے اس کیلئے پولیس کمانڈ کنٹرول سے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعہ کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ بی جے پی کے معطل رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کی رہائی کیلئے اور گرفتاری کے خلاف اسکے حامی مظاہرے کرسکتے ہیں اسے ناکام بنانے پولیس توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور ان پنڈالوں پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے جو حلقہ گوشہ محل سے حسین ساگر پہنچیں گے۔ جلوس سے ایک دن قبل حلقہ گوشہ محل میں راجہ سنگھ کے حق میں کئی پوسٹرس اور بیانرس نصب کئے گئے جس کے بعد پولیس نے چوکسی اختیار کرلی ۔ جمعہ کو جلوس کے پیش نظر پولیس کمشنر سی وی آنند نے عہدیداروں کے ہمراہ آج پرانے شہر کا دورہ کیا۔ دونوں شہروں میں 9523 گنیش مورتیاں تھیں۔ بالا پور سے مرکزی جلوس کا آغاز ہوگا جو 19 کیلو میٹر راستے سے گذرتا ہوا حسین ساگر پر اختتام پذیر ہوگا۔ اس موقع پر حیدرآباد 24,132 پولیس فورس اور 122 ریزرو پولیس کے پلاٹونس کو تعینات کیا گیا ہے اور جلوس پر سی سی ٹی وی کیمروں سے نظر رکھی جائے گی جبکہ کوئیک ریسپانس ٹیم، شی ٹیمس، ڈاگ اسکواڈز وغیرہ کو تعینات کیا جارہا ہے اور دونوں شہروں میں 739 اضافی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے جبکہ 10 ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جائے گا اور جلوس پر کڑی نظر رہیگی۔ پولیس نے 2 موبائیل کمانڈ کنٹرول سنٹرس کے علاوہ ایک مشترکہ کمانڈ کنٹرول سنٹر، جی ایچ ایم سی، ایچ ایم ڈی اے، ٹرانسکو ، واٹر ورکس اور محکمہ صحت کے ہمراہ قائم کیا ہے۔ اس موقع پر پولیس کمشنر سی وی آنند نے بتایا کہ گنیش وسرجن جلوس کیلئے گنیش پنڈالوں کے آرگنائزرس اور عوام بھی پولیس سے تعاون کریں۔ دونوں شہروں میں ٹریفک تحدیدات عائد کی گئی ہیں ۔ ب