آذربائیجان اور آرمینیا میں گھمسان لڑائی

   

ہلاکتوں کی تعداد 300 سے زائد ، آذربائیجان کو اِسرائیلی ہتھیاروں کی فراہمی پرآرمینیا ناراض
ہم اور آزری عوام ایک ملت ہیں ، چاہے ہم دو مختلف ممالک ہیں لیکن وقت آنے پر واحد مملکت کا موقف اختیار کرسکتے ہیں : ترکی

کاراباخ : آذربائیجان کو اسرائیل کی طرف سے فراہم مسلح ڈرون کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن قائم ہے۔ اس میں ’’خودکش ڈرونس‘‘ بھی شامل ہیں جو دشمن کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے میں کارگر ثابت ہوتے ہیں۔یہ بات اسرائیلی میڈیا نے بتائی ۔ ناگورنو۔ کاراباخ میںآرمینیا اورآذربائیجان کی افواج کے درمیان جاری لڑائی میں مزید شدت اور دونوں ملکوں کے بڑے شہروں پر گولہ باری نے شہریوں کو انتہائی خوفزدہ کر دیا ہے۔ جنگ میں اب تک 300 سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔متنازعہ خطے میں دونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھیں اور پہلے دن کم ازکم 23 لوگ مارے گئے تھے۔دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے آذربائیجان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر اسرائیل اورآرمینیا کے تعلقات میں تلخی آگئی ہے۔اسرائیل ویسے بھی آذربائیجان کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن حالیہ تنازعہ کے دوران اسرائیلی ہتھیاروں کی فراہمی نے آرمینیا کو ناراض کر دیا ہے۔واضح رہے کہ آذربائیجان نے اسرائیل کو اب تک تسلیم نہیں کیا، تاہم دونوں کے درمیان تجارتی و دفاعی تعلقات قائم ہیں۔ دوسری طرف آرمینیا کے 1992ء سے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات تھے۔ گذشتہ ماہ 17ستمبر کو تل ابیب میںآرمینیا کا سفارت خانہ بھی کھولا گیا تھا۔ آرمینیا نے مقامی عسکریت پسندوں کی مدد سے آذربائیجان کے علاقے پر خطے سے باہر سے حملہ کر کے قبضہ کرلیا تھا۔اسرائیل،آذربائیجان کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور گذشتہ 5 سال میںآذربائیجان نے 740 ملین ڈالر کا اسلحہ اسرائیل سے خریدا ہے تاہم حالیہ تنازعہ کے دوران اسرائیلی اسلحہ کی فراہمی نے آرمینیا کو ناراض کردیا ہے۔ویسے توآرمینیا کے 1992ء سے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات تھے تاہم دونوں ممالک میں باقاعدہ سفارتی تعلقات گذشتہ ماہ ہی قائم ہوئے تھے جب 17ستمبر کو تل ابیب میں پہلی بارآرمینیا کا سفارت خانہ کھولا گیا تھا،لیکن اب اسرائیل کی جانب سے آذربائیجان کو اسلحے کی فراہمی پرآرمینیا نے احتجاجاً اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔آذربائیجان کے مشیرخارجہ حکمت حاجیوف نے اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرمینیا سے جنگ میں اسرائیلی ڈرونس بھی استعمال کیے جارہے ہیں جس میں ’’خودکش ڈرونز ‘‘ بھی شامل ہیں جو دشمن کے اہداف کو تباہ کرنے میں کارگر ثابت ہوئے ہیں۔اسرائیلی صدر ریون ریولین نے آرمینیائی ہم منصب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے دونوں جانب ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ترکی کے وزیرخارجہ مولود چاوش نے اوغلو نگورنونوکاراباخ خطے میں تنازعہ پر بات چیت کیلئے آذربائیجان کا دورہ کیا’۔انھوں نے صدر آذربائیجان الہام علیئیف سے ملاقات کی اور نگورنو کاراباخ خطے کی موجودہ صورتحال پر اپنے آذربائیجان کے ہم منصب سے تبادلہ خیال کیا۔مولود چاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ‘ہم اور آذری عوام ایک ملت ہیں۔ ہم چاہے دو مختلف ممالک ہیں مگر ہم وقت آنے پر واحد مملکت کے طور پر مؤقف اختیار کرسکتے ہیں’۔انھوں نے کہا ہے کہ ‘اس ملک سے ہمارے گہرے تعاون پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے زیادہ فطری کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی’۔آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بائرام اوف اور ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اوغلو کا استقبال کرتے ہوئے اس سے قبل ناٹو سربراہ نے ترکی پر زور دیا تھا کہ وہ خطے میں لڑائی بند کرانے کیلئے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔واضح رہیکہ روس، امریکہ اور فرانس نے ناگورنو کاراباخ کے تنازعہ پرآذربائیجان اورآرمینیا سے اپیل کی تھی کہ وہ فوری طور پر غیرمشروط جنگ بندی کا اعلان کریں، تاکہ بات چیت کی راہ ہموار ہوسکے۔