حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز) عوام سے اگر بدعنوان محکمہ جات اور ادارہ جات کے متعلق دریافت کیا جائے تو عوام بلدیہ‘ محکمہ مال کے علاوہ پولیس بالخصوص ٹریفک پولیس کے نام لیتے ہیں لیکن ان محکمہ جات و اداروں سے زیادہ ابتر حالت ریاست میں محکمہ روڈ ٹرانسپورٹ کے تحت خدمات انجام دینے والے ادارہ آرٹی اے کی ہے ۔ آرٹی اے کے تمام دفاتر بلا تفریق علاقہ و ضلع کسی بھی دفتر میں کوئی شخص اپنے کام بغیر کسی درمیانی فرد کے نہیں کرواسکتااوراس دفتر میں کاموں کی انجام دہی کے لئے درمیانی افراد کے بغیر کام کروانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے اور سرکردہ شخصیات بھی آرٹی اے دفاتر میں اپنے کاموں کو کروانے کے لئے درمیانی افراد کی مدد حاصل کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں۔ آرٹی اے دفاتر جہاں ڈرائیونگ لائسنس کی اجرائی ‘ گاڑی کا رجسٹریشن ‘ کے علاوہ فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کیا جاتا ہے اس کے لئے علاوہ گاڑیوں کے رجسٹریشن اور لائسنس کی تجدید کا عمل ہوتا ہے ان کاموں کے لئے آرٹی اے کی جانب سے طئے شدہ فیس کے علاوہ اضافی ’’فیس‘‘ جو درمیانی افراد کے ذریعہ نقد وصول کی جاتی ہے اس کا بھی تعین کیا جاچکا ہے ۔ دونوں شہرو ں حیدرآباد وسکندرآباد میں موجود آرٹی اے دفاتر کے باہر درمیانی افراد موجود ہوتے ہیں اور اگر کئوی بھی فرد بغیر کسی درمیانی شخص کے کسی کاؤنٹر پر اپنے کام کے لئے پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے اس طرح کے دستاویزات طلب کئے جاتے ہیں کہ وہ فوری طور پر دینے سے قاصر ہوتا ہے لیکن اگر ہی درخواست گذار کسی درمیانی فرد کے ذریعہ عہدیدار تک پہنچتا ہے تو ایسی صورت میں اس سے کوئی سوالات نہیں کئے جاتے بلکہ منٹوں میں اس کے کام ہونے لگتے ہیں۔آرٹی اے دفاتر پر محکمہ انسداد رشوت ستانی کے عہدیداروں کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کے باوجود بھی شہر کے بیشترتمام آرٹی اے دفاتر میں رشوت کا چلن اور درمیانی افراد کے ذریعہ کاموں کو مکمل کرنے کا سلسلہ جاری ہے اورآرٹی اے دفاتر بالخصوص شہری علاقوں میں موجود دفاتر میں درمیانی افراد کا راج چل رہاہے اور کوئی عوام کا پرسان حال نہیں ہے۔3