آر ٹی اے کاموں کیلئے ڈی ڈی کا لزوم ‘ اضافی رقومات کی وصولی

   

حیدرآباد 26 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تلنگانہ میں 2 اگسٹ 2016 کو جب ریجنل ٹرانسپورٹ اتھاریٹی ( آر ٹی اے ) میں تمام خدمات کو آن لائین کردیا گیا تھا تو شہریوں نے قدرے راحت کی سانس لی تھی اور ان کا یہ خیال تھا کہ کم از کم اب کسی طرح کے کمیشن ایجنٹوں یا دلالوں کے بغیر اور کسی اضافی رقم کی ادائیگی کے بغیر وہ اپنے کام کروانے میں کامیاب ہونگے ۔ تاہم آن لائین طریقہ کار کے باوجود صورتحال زیادہ نہیں بدلی ہے ۔ عوام کو آر ٹی اے کاموں کی انجام دہی کیلئے ڈیمانڈ ڈرافٹ ( ڈی ڈی ) دلالوں سے اور ایجنٹوں سے حاصل کرنا پڑ رہا ہے اور وہ اس کیلئے بھاری اضافی رقومات طلب کر رہے ہیں۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ آر ٹی اے دفاتر کے باہر بیٹھ کر اس طرح عوام سے اضافی رقم اینٹھنے والے ایجنٹس یومیہ 10 تا 15 ہزار روپئے کما لیتے ہیں۔ بعض اوقات تو 100 روپئے کے ڈی ڈی کیلئے 200 روپئے تک بھی وصول کئے جاتے ہیں۔ معمولی چالانات کی رقم سے زیادہ ایجنٹوں کا کمیشن ادا کرنا پڑتا ہے ۔ چونکہ بیشتر کاموں کیلئے آر ٹی اے دفاتر میں ٹائم سلاٹ بک کیا جاتا ہے اور ڈی ڈی کی شرط سے بیشتر عوام واقف نہیں ہوتے اس لئے ان کے پاس آر ٹی اے دفتر جانے کے بعد ایجنٹوں سے یہ ڈی ڈی حاصل کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا ہے کیونکہ اگر وہ خود بینک تک جائیں تو ان کا ٹائم سلاٹ ختم ہوجاتا ہے ۔ بیشتر ایجنٹس ایک ڈی ڈی کیلئے 200 تا 300 روپئے اضافی حاصل کرلیتے ہیں ۔ اس کیلئے گاہک کی جلد بازی کا اندازہ کرتے ہوئے رقم کا تعین کیا جاتا ہے ۔ آٹو اینڈ موٹر ویلفیر یونین حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر آر ٹی اے دفاتر میں بینکوں سے حاصل کردہ ڈی ڈی قبول نہیں کئے جاتے کیونکہ ان عہدیداروں کے ان ایجنٹوں سے ساز باز ہوتے ہیں۔ یہ عہدیدار عوام سے اصرا رکرتے ہیں کہ وہ ڈیمانڈ ڈرافٹ ان ایجنٹوں سے ہی حاصل کریں جن کی وہ نشاندہی کرتے ہیں۔ متعلقہ حکام کو اس صورتحال کا نوٹ لیتے ہوئے ایجنٹوں کی اجارہ داری کو ختم کرنے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔