سابق رکن پارلیمنٹ وشویشور ریڈی کا سوال ، مہاراشٹرا میں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کا الزام
حیدرآباد۔14 اکتوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ کے وشویشور ریڈی نے آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال اور خودکشی سے اموات پر صدر مجلس اسد اویسی کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وشویشور ریڈی نے کہا کہ ٹوئٹر پر ہر وقت سرگرم رہنے والے دو قائدین اِس وقت پراسرار طور پر خاموش ہیں، ایک کے ٹی راما راؤ، دوسرے اسد اویسی۔ انہوں نے کہا کہ ہر دن کے ٹی آر کم از کم تین مرتبہ ٹوئٹر پر نمودار ہوتے ہیں لیکن آر ٹی سی ہڑتال کے آغاز کے بعد سے وہ روپوش ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کے ٹی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ کم از کم ٹوئٹر پر آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال پر تبصرہ کریں۔ خودکشی کرنے والے ملازمین کے افراد خاندان سے ملاقات کرتے ہوئے ہمدردی کا اظہار کریں۔ انہوں نے ملازمین کی برطرفی سے متعلق حکومت کے اعلان پر تنقید کی اور سوال کیا کہ اندرون 24 گھنٹے ملازمت پر رجوع نہ ہونے والے ہزاروں افراد کو برطرف کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ چیف منسٹر کئی برسوں سے سیکریٹریٹ سے غائب ہیں۔ انہیں کون برطرف کرے گا۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ جب ملازمین کی غیرحاضری پر برطرفی کا فیصلہ کیا جائے تو پھر چیف منسٹر بھی برطرفی کے زمرہ میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو تلنگانہ کے عوام ہمیشہ کیلئے برطرف کردیں گے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صدر مجلس اسد اویسی کہاں غائب ہوگئے۔ حیدرآباد میں آر ٹی سی ملازمین خودکشی کررہے ہیں اور ہڑتال سے عوام کو دشواریوں کا سامنا ہے لیکن اسد اویسی کا ٹوئٹر بند ہے۔ وشویشور ریڈی نے اسد اویسی سے کہا کہ وہ ٹوئٹر پر ہڑتال کے بارے میں اپنے ردعمل کا اظہار کریں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مہاراشٹرا میں بی جے پی کی مدد کیلئے مجلس انتخابات میں حصہ لے رہی ہے۔ اس سے قبل بہار اور اترپردیش میں کانگریس کے ووٹ تقسیم کرتے ہوئے بی جے پی کو فائدہ پہنچایا گیا تھا۔ بنگلور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں مجلس نے ایک بھی نشست نہیں جیتی لیکن مقابلہ کے ذریعہ کانگریس کو نقصان پہنچایا۔ وشویشور ریڈی نے کہا کہ صدر مجلس تلنگانہ عوام کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔